تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 299
جاتے ہیں۔ایمان کامل میں تقدیر کا پہلو غالب ہوتا ہے اور تدبیر کا پہلو کمزور ہوتا ہے جیسے رحمانیت خالص خدا کی تھی اسی طرح جو انسان خدا تعالیٰ کے قریب ہوتا چلا جاتا ہے اس کی زندگی کے کاموں میں بھی تقدیر زیادہ اور تدبیر کم نظر آتی ہے۔وہ بے شک تدبیر بھی کرتاہے مگر اس کے نتائج اس کی تدبیر سے بہت زیادہ پیدا ہوتے ہیں جیسے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرماتا ہے مَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى (الانفال:۱۸) محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکر اٹھائے اور مٹھی بھر کر انہیں دشمن کی طرف پھینکا(السیرۃ النبویۃ لابن ھشام رمی الرسول للمشـرکین بالحصباء) مگر اس کا جو نتیجہ نکلا وہ مٹھی بھر کنکروں سے کہاں نکل سکتا تھا۔دس ہزار آدمی بھی اگر ایک ایک مٹھی کنکروں کی پھینکیں تو ان کا وہ نتیجہ پیدا نہیں ہو سکتا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پھینکے ہوئے مٹھی بھر کنکروں نے پیدا کر دیا آپؐ نے ادھر مٹھی بھر کر کنکر پھینکے ادھر ایک ہزار تجربہ کار لشکر جو سامنے کھڑا تھا بے کار ہو گیا۔کنکر بے شک آپؐنے ہی پھینکے مگر جب آپؐ نے کنکر پھینکے تو خدا تعالیٰ نے کہا اب آگے بندے کا کام نہیں بلکہ میرا کام ہے۔چنانچہ کنکروں کو دشمن تک پہنچانے کے لئے ہوا کی ضرورت تھی خدا نے ہوا سے کہا کہ چلو اور کنکروں کو دشمن کی آنکھوں میں ڈالو۔پھر مٹھی بھر کنکر صرف دو چار کی آنکھوں میں پڑ سکتے تھے مگر خدا نے زور کی ہوا چلا کر میدان کی ریت اور کنکر اٹھا اٹھا کر دشمن کی آنکھوں میں ڈالنے شروع کر دیئے۔گویا مٹھی بھر کنکر تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھینکے اور کروڑوں کروڑ کنکر خدا نے پھینکے۔جب انسان کوئی چیز پھینکنے کے لئے اپنے ہاتھ ہلاتا ہے تو اس سے کسی قدر ہو امیں ضرور حرکت پیدا ہوتی ہے آپؐکے کنکر پھینکنے سے بھی ضرور ہوا میں حرکت پیدا ہوئی ہو گی مگر اس حرکت سے جو ہوا چلی ہو گی وہ اتنی بھی تو نہیں ہو گی جتنی ایک پھونک مارنے سے پیدا ہوتی ہے۔لیکن ادھر آپؐنے اپنے ہاتھ کو حرکت دی اور ادھر خدا نے ہوا سے کہا کہ تم زور سے چلو اور دشمن کو اندھا کر دو۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے دشمن کو اس کے عزائم میں کلی طور پر ناکام کر دیا۔بہرحال اس سے ظاہر ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ نے جو یہ نشان ظاہر فرمایا اس میں تدبیر کا حصہ بہت کم تھا اور تقدیر کا حصہ بہت زیادہ تھا۔یہی حال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کاموں کا تھا۔یہی حال باقی انبیاء ؑ کے کاموں کا تھا۔ان کے کاموں میں بھی تدبیر کم اور تقدیر زیادہ تھی۔پھر انبیاء سے نیچے اتر کر جو لوگ اللہ تعالیٰ کے محبوب ہوتے ہیں ان کے کاموں کو ہم دیکھتے ہیںتو ان میں بھی تدبیر کم ہوتی ہے اورتقدیر زیادہ ہوتی ہے۔لیکن جو کمزور ایمان والا ہوتا ہے اس میں تدبیر کا پہلو غالب ہوتا ہے جیسے مادی لوگ ہیں یا دہریہ وغیرہ ہیں۔میں نے کمزور ایمان والا ان کو اس لئے کہا ہے کہ دہریہ میں بھی کچھ نہ کچھ ایمان ضرور ہوتا ہے کم از کم وہ خدا تعالیٰ کے قانونِ قدرت پر ضرور ایمان رکھتا ہے اس لحاظ سے ہم