تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 298

ایک ایک فعل تواتر سے نتائج پیدا کرتا ہے یہ رحیمیت ہے۔اگر دنیا میں صرف یہی سلسلہ ہوتا کہ جب کوئی شخص کام کرتا تو اسی وقت اس کا ایک نتیجہ پیدا ہو جاتا تو ہم اس کو بدلہ تو کہہ سکتے تھے جیسے مزدور مزدوری کرتا ہے تو اپنی اجرت لے لیتا ہے مگر ہم اسے رحیمیت نہیں کہہ سکتے تھے رحیمیت کی مثال ایسی ہی ہے جیسے پنشن ہوتی ہے۔لوگ ملازمت کرتے ہیں تو انہیں اس کا بھی ایک بدلہ مل رہا ہوتا تھا۔مگر اس کے ساتھ ہی ان کے کھاتے میں یہ بھی لکھا جاتا ہے کہ آئندہ اس کام کا متواتر نتیجہ پیدا ہو گا چنانچہ اگر کوئی دس یا پندرہ سال ملازمت کرتا ہے تو وہ تنخواہ کے 1/10 حصہ کی پنشن کا حقدار ہو جاتا ہے۔بیس سال گذر جائیںتو 1/3 پنشن کا حقدار ہو جاتا ہے۔پچیس سال گذر جائیں اور وہ ڈاکٹری سارٹیفکیٹ بھی پیش کر دے تو اسے نصف پنشن مل جاتی ہے اور اگر تیس سال گذر جائیں تو بغیر ڈاکٹری سارٹیفکیٹ کے ہی وہ پوری پنشن کا حقدار بن جاتا ہے۔یہ چیز ہے جو رحیمیت کے مشابہ ہے یعنی کام کا بدلہ نقد ہی نہیں ملا بلکہ آئندہ کے لئے اور نیک نتائج کی بنیاد بھی ساتھ ہی رکھ دی گئی۔پھر یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انسان کی رحیمیت اور خدا تعالیٰ کی رحیمیت میں فرق کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جب انسان بدلہ دیتا ہے تو یہ سمجھ کر دیتا ہے کہ اس شخص نے کچھ سالوں کے بعد مر جانا ہے اگر اسے پتہ لگ جائے کہ اس شخص نے کبھی نہیں مرنا تو وہ کبھی اسے پنشن نہ دے۔مگر چونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ اس نے ضرور چند سالوں کے اندر اندر مر جانا ہے اس لئے وہ پنشن دے دیتا ہے لیکن خدا کو نہ صرف یہ پتہ ہے کہ انسان نہیں مرے گا بلکہ وہ خود کہتا ہے کہ میں انسان کو ماروں گا نہیں بلکہ اسے ابدی زندگی دوں گا۔گویا یہی نہیں کہ وہ اتفاقی طور پر اس حادثہ کو برداشت کر لیتا ہے بلکہ وہ انسان کے زندہ رہنے اور اس کی دائمی حیات کے خود سامان مہیا کرتا ہے اس لئے خدا کی رحیمیت کی شان اور ہے اور انسان کی رحیمیت کی شان اور ہے۔بہرحال بِسْمِ اللّٰهِ حال پر، رحـمٰن ماضی پر اور رحیم کا لفظ مستقبل پر دلالت کرتا ہے اور یہ تینوں الفاظ بتاتے ہیں کہ تمام کے تمام کاموں میں تقدیر الٰہی انسان کے ساتھ وابستہ ہے۔بِسْمِ اللّٰهِ میں چھوٹی سی تدبیر شامل ہے یعنی انسان کہتا ہے میں خدائی مدد سے یہ کام شروع کرتا ہوں۔گویا ارادہ انسان کا اپنا ہوتا ہے۔اگر میرا ارادہ کسی کام کے متعلق نہ ہو تو میں یہ کس طرح کہہ سکتا ہوں کہ میں خدا کی مدد سے فلاں کام شروع کرتا ہوں۔بہرحال اس میں کچھ بندے کا بھی دخل ہوتا ہے۔اس کے بعد رحمانیت کا دائرہ ہے جو خالص خدا سے تعلق رکھتا ہے۔اور رحیمیت میں تھوڑا سا کام بندہ کرتاہے اورغیرمنتہیٰ نتیجہ خدا پیدا کرتا ہے گویا تدبیر اور تقدیر دونوں سے مل کر یہ دنیا چلتی ہے اور بِسْمِ اللّٰهِ ہم کو بتاتی ہے کہ تقدیر اور تدبیر آپس میں اس طرح الجھی ہوئی ہیں کہ ان کو الگ الگ نہیں کیا جا سکتا۔آگے انسان کی مختلف حیثیتوں کے لحاظ سے اس کے کام بڑے اور چھوٹے ہوتے چلے