تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 297 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 297

نہیں لیا وہ رحمانیت کی صفت کے ماتحت آتی ہیں۔ان کے لئے کیوں رحمانیت کا لفظ بولا گیا ہے؟ کیوں نہیں کہا گیا کہ کچھ چیزیں خدا نے بنائی ہیں اور کچھ ایسی ہیں جن میں بندوں کی محنت اور ان کی کوشش کا دخل ہے۔کیوں خدا نے یہ نہیں کہا اور لفظ ِ رحمٰن سے اس مفہوم کو ادا کیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر یہ لفظ بولے جاتے کہ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو خدا نے پیدا کی ہیں اور کچھ چیزیں ایسی ہیں جو بندوں نے بنائی ہیں تو ان الفاظ سے یہ نتیجہ تو نکلتا کہ ان پیدا کی ہوئی اشیاء میں سے کچھ چیزیں خدا کی بھی ہیں مگر یہ نتیجہ نہ نکلتا کہ جو چیزیں خدا نے پیدا کی ہیں وہ سب کی سب انسان کے فائدہ کے لئے پیدا کی گئی ہیں یہ سوال بہرحال باقی رہ جاتا کہ وہ چیزیں جو خدا نے بنائی ہیں وہ کسی فائدہ کے لئے ہیں یا ان میں سے کچھ بے فائدہ بھی ہیں۔مگر رحمانیت کے لفظ نے بتا دیا کہ وہ سب کی سب ہمارے فائدہ کے لئے ہیں۔رحم کا لفظ کسی کو فائدہ پہنچانے کے لئے بولا جاتا ہے یوں ہی نہیں بولا جاتا۔مثلاً اگر سورج چمک رہا ہو تو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ بڑا رحم کر رہا ہے کیونکہ رحم میں دو باتوں کا پایا جانا ضروری ہوتا ہے۔اوّل دوسرے کے فائدہ کا کام کرنا۔دوم اس نیت سے کرنا کہ دوسرے کو فائدہ پہنچے۔فرض کرو کوئی شخص جا رہا ہے اور اس کی جیب سے اتفاقاً ایک پیسہ گر گیا ہے کسی اور نے اٹھا لیا ہے اب اسے فائدہ تو پہنچ گیا مگر کیا کوئی شخص اس وجہ سے کہ اس کے پیسہ سے دوسرے نے فائدہ اٹھا لیا ہے یہ کہے گا کہ وہ بڑے رحم کرنے والے انسان ہیں۔پس رحم کے معنوں میں صرف یہی بات شامل نہیں ہوتی کہ دوسرے کو فائدہ پہنچے بلکہ اس میں یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ دوسرے کو فائدہ پہنچانے کی نیت بھی ہو۔پس رحمٰن کا لفظ بول کر بعض زائد امور بیان کئے گئے ہیں جو اس لفظ کے بغیر ادا نہیں ہو سکتے تھے یعنی یہی نہیں کہا گیا کہ خدا نے ایسی چیزیں پیدا کی ہیں جن کے پیدا کرنے میں انسان کا دخل نہیں بلکہ خدا نے ان چیزوں کو پیدا ہی انسان کے فائدہ کے لئے کیا ہے اور اس نیت سے پیدا کیا ہے کہ انسان ان سے فائدہ اٹھائے۔رحیم فَعِیْل کے وزن پر ہے اور یہ وزن تواتر اور لمبے زمانہ کی طرف اشارہ کرتاہے اور رحمٰن فَعْلَان کے وزن پر ہے اور وسعت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔رحیم کے معنے ہیں وہ جو بار بار نتائج پیدا کرتا ہے(لسان العرب)۔جب رحمانیت کے سامانوں سے انسان فائدہ اٹھالیتا ہے تو رحیم خدا اس کے بار بار نتائج پیدا کرتا ہے مثلاً انسان روٹی کھاتا ہے روٹی کھانے کا یہی نتیجہ نہیں ہوتا کہ پیٹ بھر جاتا ہےبلکہ اس کے نتیجہ میں خون پیدا ہوتا ہے جو مہینوں اور سالوں انسانی جسم میں کام کرتا ہے۔اسی خون سے اس کے دماغ کو طاقت ملتی ہے، اس کی نظر کو طاقت ملتی ہے، اس کے ذہن کو طاقت ملتی ہے، اس کے کانوں کو طاقت ملتی ہے جو مہینوں اور سالوں اس کے کام آتی ہے۔پھر اسی میں سے نطفہ پیدا ہوتا ہے جس سے اس کی نسل پیدا ہوتی ہے۔پھر اس نسل سے اگلی نسل اور اگلی نسل سے اور اگلی نسل پیدا ہوتی ہے۔گویا