تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 296 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 296

بِسْمِ اللّٰهِ میں توکّل کا سبق بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ میں اسلامی عقیدہ کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے۔اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ جو کچھ بھی اس دنیا میں ہے وہ خدا کا ہے اور جو کچھ ہو رہا ہے خدا کرتا ہے۔کوئی چیز خدا تعالیٰ کے اختیار سے باہر نہیں اور کسی بات میں خدا تعالیٰ کسی دوسرے کی امداد کا محتاج نہیں۔ہر چیز جو ماسوی اللہ ہے وہ خدا تعالیٰ کی محتاج ہے اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ کچھ نہیں کر سکتی۔اسی کو عربی زبان میں توکّل کہتے ہیں۔یعنی اس عقیدہ کے مطابق انسانی عمل کا نام اسلامی اصطلاح میں توکّل ہے۔پس بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ میں توکّل علی اللہ کی تفسیر بیان کی گئی ہے۔اس کے معنے یہ ہیں کہ ہم خدا سے مدد مانگتے ہوئے ایسے خدا سے مدد مانگتے ہوئے جس نے سب کے سب سامان بغیر کسی محنت اور کوشش اور تدبیر کے مہیا کر کے دیئے ہیں اور جو ان سامانوں سے کام لینے پر پھر اچھے سے اچھا اور ہمیشہ اور بار بار نتیجہ خیز بدلہ دیتا ہے اس کام کو شروع کر تے ہیں یہ مختصراً ترجمہ ہے بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ کا اور حقیقت یہ ہے کہ اگر اس کی تفسیر کی جائے تو اسی پر کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں گویا اس چھوٹی سی آیت میں یہ پیش کیا گیا ہے کہ حال خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے کیونکہ جب انسان کہتا ہے بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ میں خدا سے مدد مانگتا ہوں تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ یہ زمانہ جس میں مَیں ہوں اور کام کرنا چاہتا ہوں خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔اگر حال خدا تعالیٰ کے اختیا رمیں نہیں تو وہ مدد کس سے مانگتا ہے۔مدد اسی سے مانگی جاتی ہے جس کے قبضہ و تصرف میں حال کا زمانہ ہو پس اگر میں کام کرتے ہوئے خدا تعالیٰ سے مدد مانگتا ہوں تو درحقیقت میں اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ موجودہ زمانہ میں خدا تعالیٰ کو طاقت حاصل ہے پھر اَلرَّحـمٰن کا لفظ آتا ہے۔یعنی میں اس سے مدد مانگتا ہوںجو رحمٰن ہے۔رحمٰن کے معنے ہیں بغیر کوشش، محنت اور خدمت کے ہر قسم کی ضرورتوں کو پورا کرنے والا(مفردات)۔گویا رحمانیت کے ماتحت وہ تمام چیزیں شامل ہیں جو بغیر کسی محنت اور کوشش کے انسانوں کو ملتی ہیں۔رحمانیت میں آسمان کی پیدائش بھی شامل ہے، رحمانیت میں زمین کی پیدائش بھی شامل ہے، رحمانیت میں پانی بھی شامل ہے، رحمانیت میں ہوا بھی شامل ہے، رحمانیت میں انسان کا اپنا جسم بھی شامل ہے، رحمانیت میں اس کے تمام قویٰ مثلاً ناک، کان اور آنکھیں وغیرہ بھی شامل ہیں۔رحمانیت میں حیوانات بھی شامل ہیں، رحمانیت میں جمادات بھی شامل ہیں، رحمانیت میں چاند اور ستارے وغیرہ بھی شامل ہیں۔غرض جو کچھ بھی اس دنیا میں پایا جاتا ہے جس کے بنانے میں ہم نے محنت نہیں کی وہ رحمانیت کا نتیجہ ہے اور ہر چیز جس کےبنانے میں ہم نے ہاتھ ہلایا ہے وہ رحیمیت ہے۔دنیا میں دو ہی چیزیں ہیں یا تو ایسی چیزیں ہیں جن کےبنانے میں انسان نے حصہ نہیں لیا۔یا ایسی چیزیں ہیں جن کے بنانے میں انسان نے حصہ لیا ہے۔وہ چیزیںجن کے بنانے میں انسان نے حصہ