تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 295
لگا دی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور یہ کہ اگر کوئی ایک ٹکڑا بھی غلط نکلے تو یہ کتاب خدا کی طرف سے نہیں ہو سکتی۔بائبل پر ایمان رکھنے والا کہہ دیتا ہے کہ بائبل کا جو حصہ پورا ہو رہا ہے یہ خدا کی طرف سے ہے اور جو حصہ پورا نہیں ہو رہا یہ انسانوں کی طرف سے ہے۔مگر قرآن کہتا ہے کہ اگر اس کتاب کا کوئی ایک ٹکڑا بھی پورا نہیں ہوتا تو تم سمجھ لو کہ ساری کی ساری کتاب خدا کی طرف سے نہیں۔غرض بِسْمِ اللّٰهِ نے قرآن کریم کے ہرٹکڑے کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ پر ڈال دی ہے اور بار بار وہ اس ذمہ داری کا اظہار کرتا ہے۔بے شک بائبل بھی خدا تعالیٰ کی کتاب ہے مگر اس کے باوجود بائبل کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس میں ایسے حصے ہیں جو انسانوں نے اپنے ہاتھ سے اس میں ملا دیئے ہیں۔اسی طرح انجیل کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ خدا کی طرف سے ہے مگر اس کے باوجود اس میں ایسے ٹکڑے بھی ہیں جن کے متعلق عیسائی کہتے ہیں کہ وہ خدا کی طرف سے نہیں۔یہی مشکل قرآن کریم کے متعلق بھی پیش آسکتی تھی اگر ایک دفعہ ہی قرآن کریم میں بِسْمِ اللّٰهِ آتی تو ہو سکتا تھا کہ بعض مسلمان اپنی بے ایمانی میں یہ کہہ دیتے کہ فلاں ٹکڑا خدا کی طرف سے نہیں۔بعض انسانوں نے اس میں ملا دیا ہے۔اس نقص کے ازالہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہر ٹکڑا سے پہلے بِسْمِ اللّٰهِ نازل کر دی ہے اور اس طرح بتایا ہے کہ قرآن کریم سارے کا سارا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔بائبل کی اگر ایک آیت غلط ثابت ہو جائے تو یہودی یہ نہیں مانے گا کہ ساری بائبل غلط ہے انجیل کی اگر ایک آیت غلط ثابت ہو جائے تو عیسائی یہ نہیں مانے گا کہ ساری انجیل غلط ہے۔لیکن قرآن کریم یہ کہتا ہےکہ ہم دنیا کے سامنے یہ دعویٰ پیش کرتے ہیں کہ اس کا ایک ایک ٹکڑا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔اس کی چھوٹی سے چھوٹی سورۃ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اس کی بڑی سے بڑی سورۃ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔اگر کوئی ایک ٹکڑا بھی غلط ثابت ہو جائے تو سمجھ لو کہ سارا قرآن غلط ہے خدا نے اسے نازل نہیں کیا۔یہ کتنا عظیم الشان دعویٰ ہے جو قرآن کریم نے پیش کیا ہے۔اس کے مقابلہ میں دنیا کی کوئی الہامی کتاب نہیں ٹھہر سکتی۔دنیا میں لوگ اپنی ذمہ داریاں کم کیا کرتے ہیں مگر قرآن کریم نے بار بار بِسْمِ اللّٰهِ نازل کر کے اپنی ذمہ داریوں کو بہت بڑھا لیا ہے اگر ایک دفعہ بِسْمِ اللّٰهِ آتی تو خیال کیا جا سکتا تھا کہ کچھ ٹکڑے ایسے بھی ہوں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے نہ ہوں مگر ہر سورۃ سے پہلے بِسْمِ اللّٰهِ نازل کر کے اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ کوئی ٹکڑا بھی ایسا نہیں جس کی صداقت کی ذمہ داری ہم نہ لیتے ہوں۔اس لئے کسی ایک ٹکڑے کا غلط ہونا درحقیقت سارے قرآن کا غلط ہونا ہے۔مگر کوئی ایک ٹکڑا بھی ایسا ثابت نہیں کیا جا سکتا جو غلط ہو۔اور جس کی صداقت دنیا پر واضح نہ کی جا سکتی ہو۔غرض یہ آیت قرآن کریم کے مشترک مضامین کی کنجی اور اس کے ہر ٹکڑا کے خدا کی طرف سے نازل ہونے کی ایک بیّن دلیل ہے۔