تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 289 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 289

واپس چلے گئے اور اس لئے گئے کہ خدا نے ان سے کہا تھا کہ تو اپنے بیٹے کو ہماری راہ میں ذبح کر۔میرا کامل یقین ہے اور میں نے متواتر یہ بات بیان کی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ میں اسے قرآن کریم سے ثابت کرسکتا ہوں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے رؤیا میں جو یہ دیکھا تھا کہ میں اپنے بیٹے کو ذبح کر رہا ہوں اس سے مراد ظاہری ذبح کرنا نہیں تھا بلکہ اس سے مراد یہ تھی کہ ایک وقت آپ کو حکم دیا جائے گا کہ آپ اپنے بیٹے اسماعیل کو ایک ایسی وادیٔ غیر ذی زرع میں جا کر چھوڑ آئیں جہاں نہ پینےکے لئے پانی ہو اور نہ کھانے کے لئے غلّہ۔ایک جنگل اور وہشت ناک بیابان میں جہاں ہر وقت اس بات کا امکان تھا کہ بھیڑیا آئے اور انہیں کھا جائے۔جہاں کھانے اور پینے کی کوئی چیز نہ تھی۔جہاں رہائش کے لئے کوئی مکان نہیں تھا۔جہاں سینکڑوں میل تک آبادی کا کوئی نشان تک نہ تھا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بیٹے اسماعیل کو چھوڑنا قتل سے کسی طرح کم نہیں تھا بلکہ زیادہ ہی تھا۔قتل کرتے وقت تو مقتول کی ایک منٹ میں جان نکل جاتی ہے مگر یہاں اس بات کا امکان تھا کہ وہ بھوکے اور پیاسے کئی کئی دن تک تڑپ تڑپ اور سسک سسک کر جان دیں۔پس میرے نزدیک حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو خواب دیکھی تھی اس میں اسی طرف اشارہ تھا کہ ایک دن تمہیں حکم دیا جائے گا کہ جاؤ اور اسماعیلؑ کو جنگل میں چھوڑ آؤ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ ایک ایسی جگہ پر جس میں کشش کے کوئی سامان نہیں۔جس میں کھانے پینے کے کوئی سامان نہیں جس میں رہائش کا کوئی سامان نہیں اپنا گھر بنائے۔اور پھر اس گھر کو ترقی دے کر ایک بستی کی شکل دے اور اس بستی میں ایک ایسی قوم پلتی چلی جائے جس میں اس کا آخری نبی دنیا کی ہدایت کے لئے مبعوث ہو۔اس غرض کے لئے خدا تعالیٰ نے ایک جنگل کو چنا اور اس لئے چنا تا وہ خطّہ بیرونی دنیا کے تعیش سے محفوظ رہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عرب میں بت پرستی بھی تھی، بے دینی بھی تھی، بے حیائی بھی تھی اور وہ قوم شرک کے انتہا کو پہنچ چکی تھی مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ انسانیت کا جوہر جیسے عرب میں قائم تھا ویسا دنیا میں اور کہیں قائم نہیں تھا اور اس کی وجہ یہی ہے کہ مکہ کے لوگ ایک جنگل میں پڑے ہوئے تھے اور دنیوی تعیش کے سامانوں سے بہت دور تھے۔بے شک ان میں بعض دولتمند بھی تھے مگر دنیا کی دولت کے مقابلہ میں ان کی دولت ایسی ہی تھی جیسے کسی احمدی کے پاس اگر لاکھ دو لاکھ روپے ہوں تو وہ اپنے آپ کو بہت بڑا امیر سمجھ لیتا ہے حالانکہ یورپ کے کئی کارخانہ دار ایسے ہیں جن کے ملازموں کے ملازموں کے پاس اس سے زیادہ دولت ہوتی ہے۔مکہ کی دولت بھی اس وقت کی معلومہ دنیا کی دولت کے مقابلہ میں بالکل حقیر تھی اور یہ جو کچھ ہوا اللہ تعالیٰ کی حکمت کے ماتحت ہوا۔اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ مکہ میں ایک ایسی قوم بسا دے جو دولت مند دنیا اور عیش والی دنیا سے الگ رہتے ہوئے انسانی جوہروں کو قائم رکھ سکے۔