تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 288
کوئی سامان تھا نہ کھانے کا کوئی سامان تھا صرف ایک مشکیزہ پانی اور ایک تھیلی خشک کھجوروں کی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کے پاس رکھ دی اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت وہ اپنی بیوی اور بچے کو وہاں چھوڑ کر واپس چل پڑے۔انہوں نے اپنی بیوی کو بتایا نہیں کہ میں تمہیں یہاں اکیلے چھوڑ کر جا رہا ہوں کیونکہ انہیں خیال گذرا کہ ماں کی مامتا اپنے بچہ کی تکلیف کی وجہ سے شاید اس کی برداشت نہ کر سکے۔جب حضرت ابراہیم علیہ السلام چلے تو آپ نے اس محبت کی وجہ سے جو طبعاً انسان کو اپنی بیوی اور بچے سے ہوتی ہے تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد انہیں مڑ کر دیکھنا شروع کر دیا۔پہلے تو وہ اس رنگ میں باتیں کرتے رہے کہ بیوی کو یہ شبہ پیدا نہ ہوا کہ میں انہیں چھوڑ کر جا رہا ہوں اور جب وہاں سے واپس چلے تو واپس لوٹتے وقت بھی اس انداز میں واپس گئے جیسے کوئی ایندھن اکٹھا کرنے جاتا ہے یا پانی کا انتظام کرنے کے لئے جاتا ہے مگر جب چل پڑے تو ان سے برداشت نہ ہو سکا اور تھوڑے فاصلہ پر جا کر انہوںنے اپنی بیوی اور بچے کی طرف دیکھا اور پھر چلے اور چند قدم اٹھائے تو محبت نے غلبہ پایا اور انہوں نے دوبارہ اپنی بیوی اور بچے کی طرف دیکھاپھر چلے تو تھوڑی دیر کے بعد محبت نے پھر جوش مارا اور پھر انہوں نے اپنی بیوی اور بچے پر نظر ڈالی۔حضرت ہاجرہؓ اپنے خاوند کی ان حرکات سے سمجھ گئیں کہ یہ جدائی عارضی نہیں بلکہ معلوم ہوتا ہے یہ مستقل طور پر جا رہے ہیں کیونکہ ان کے چہرے پر رقت کے آثار تھے اور ان کی آنکھوں میں آنسو آئے ہوئے تھے۔حضرت ہاجرہؓ نے سمجھ لیا کہ بات کچھ اور ہے۔وہ گھبرا کر اٹھیںاور حضرت ابراہیمؑ کے پاس گئیں اور کہا کہ کیا آپ ہم کو چھوڑے چلے جار ہے ہیں۔حضرت ابراہیمؑ رِقّت کی وجہ سے کوئی جواب نہ دے سکے۔ان کا گلا پکڑا گیا۔ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور انہوں نے اپنا منہ پھیر لیا۔حضرت ہاجرہؓ کو یقین آ گیا کہ اب یہ ہم کو مستقل طور پر چھوڑے چلے جارہے ہیں۔چونکہ حضرت ہاجرہؓ کا پہلے بھی اپنی سَوت کے ساتھ جھگڑا ہو چکا تھا اس لئے انہیں خیال آیا کہ شاید یہ اس کی وجہ سے نہ ہو۔پھر خیال آیا کہ چونکہ حضرت ابراہیمؑ اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں اس لئے شاید اللہ تعالیٰ نے ہی ان کو اس بات کا حکم نہ دیا ہو چنانچہ انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا کہ ءَ اَللہُ اَمَرَکَ۔کیا خدا نے آپ کو حکم دیا ہے کہ ایسا کرو۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اثبات میں سر ہلا دیا۔مگر غم کی وجہ سے ان سے بات نہیں کی گئی۔حضرت ہاجرہؓ نے یہ سن کر کہا اگر خدا نے آپ کو یہ حکم دیا ہے تو خدا ہم کو چھوڑے گا نہیں۔آپ بےشک چلے جائیں(تفسیر جامع البیان زیر آیت رَبَّنَاۤ اِنِّيْۤ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِيْ بِوَادٍ غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ۔۔۔۔)۔جس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی بیوی اور بیٹے کو وہاں چھوڑا ہے اس وقت مکہ کوئی شہر نہیں تھا۔وہاں کھانے کی کوئی چیز نہیں تھی وہاں پینے کی کوئی چیز نہیں تھی۔صرف ایک مشکیزہ پانی کا اور ایک تھیلی کھجوروں کی وہ انہیں دے کر