تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 287 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 287

کے ذکر کے ساتھ ہی بعض دنیوی امور سے تعلق رکھنے والی پیشگوئیوں کا بھی ذکر کرتے ہیں جو موجودہ حالات میں بالکل ناممکن نظر آتی ہیں۔اگر یہ ناممکن نظر آنے والی باتیں ممکن ہو جائیں اور تمہاری آنکھوں کے سامنے یہ باتیں پوری ہو جائیں تو تمہیں سمجھ لینا چاہیے کہ جس خدا نے ان غیر ممکنات کو ممکنات کی صورت دے دی ہے وہ اخروی عذابوں کو بھی اسی رنگ میں پورا کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔اسی وجہ سے قرآن کریم کا یہ ایک عام قانون ہے کہ وہ اخروی اور دنیوی عذابوں اور انعاموں کو آپس میں ملا کر بیان کرتا ہے تاکہ وہ دنیوی عذاب اور انعام اخروی عذابوں اور انعاموں کی صداقت پر گواہ ہوں اور کفار ان کے انکار کی جرأت نہ کر سکیں۔غرض اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفیل کو کفار کے اس اعتراض کے جواب میں بیان کیا ہے کہ اگلے جہان کے عذابوں کا کیا اعتبار ہو سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔تمہیں یہ بات عقل کے خلاف اور ناممکن نظر آتی ہے مگر ایسی ہی ناممکن بات اصحاب الفیل کی بربادی کی بھی تھی۔ان کا حملہ ایسے رنگ میں ہوا اور ایسے حالات میں ہوا اور عربوں کا دفاع اتنا کمزور پڑ گیا اور انہوں نےا پنے آپ کو ابرہہ اور اس کے لشکر کے مقابلہ میں اتنا بےکس اور بے بس پایا کہ ہتھیار ڈال دیئے اور سمجھ لیا کہ ہم ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔مگر باوجود اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے سامانوں اور ذرائع سے دشمن کو تباہ کیا گیا کہ جس کی مثال دنیا میں ڈھونڈے سے بھی نہیں مل سکتی۔فرماتا ہے تم غور کرو اور سوچو کہ وہاں کیا بات تھی اور کس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کے لشکر کو تباہ کیا۔اس کا لشکر اس لئے تباہ ہوا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے ایک دعا کی تھی جس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ نے ان سے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ اس شہر کو امن والا بنائے گا۔اور اسے دشمنوں کے حملہ سے محفوظ رکھے گا۔ابراہیمؑ کے وقت لوگ کہتے ہوں گے کہ جناب آپ نے یہ دعویٰ تو کر دیا ہے مگر اس کا ثبوت کیا ہے۔یہ تو آئندہ زمانہ کے متعلق آپ ایک بات کہہ رہے ہیں۔اور اس زمانہ میں نہ ہم زندہ ہوں گے نہ آپ نے زندہ رہنا ہے۔پھر ایسی بات کا فائدہ کیا ہے مگر جب وہ وقت آیا دیکھنے والوں نےد یکھ لیا کہ ابراہیمؑ کی پیشگوئی پوری ہوئی اور ایک زبردست دشمن جو لشکر جرار کے ساتھ خانہ کعبہ پر حملہ آور ہوا تھا اس سے اللہ تعالیٰ نے اپنے گھر کو بچا لیااور اس طرح ایک ناممکن بات ممکن ہو گئی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کا حضرت اسمٰعیلؑ کو وادیٔ غیر ذی زرع میں چھوڑنے کا واقعہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ پیشگوئی کی تھی اس وقت مکہ دنیا میں کوئی شہر نہیں تھا۔محض اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی رضا کے لئے انہوں نے اپنی بیوی اور ایک چھوٹے بچے کو جو ابھی بالغ بھی نہیں ہوا تھا اس مقام پر آکر چھوڑ دیا۔اس وقت تک ابھی زمزم کا چشمہ بھی نہیں پھوٹا تھا۔بالکل وادیٔ غیر ذی زرع کی سی حالت تھی نہ اس میں پانی کا