تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 276
کہ کفار کے دل ہر وقت جل کر خاکستر ہوتے رہتے تھے اور انہیں کچھ سمجھ نہیں آتا تھا کہ اس آگ کو بجھانے کا ہم کیا انتظام کریں کوئی بڑا خاندان ایسا نہیں تھا جس کے افراد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں نہ آچکے ہوں۔حضرت زبیرؓ ایک بڑے خاندان میں سے تھے حضرت طلحہؓ ایک بڑے خاندان میں سے تھے۔حضرت عمرؓ ایک بڑے خاندان میں سے تھے۔حضرت عثمانؓایک بڑے خاندان میں سے تھے۔حضرت عثمان بن مظعونؓ ایک بڑے خاندان میں سے تھے۔اسی طرح حضرت عمرؓو بن العاص اور خالد ؓ بن ولید مکہ کے چوٹی کے خاندانوں میں سے تھے۔عاص مخالف تھے مگر عمرو مسلمان ہو گئے۔ولید مخالف تھے مگر خالد مسلمان ہو گئے۔غرض ہزاروںلوگ ایسے تھے جو اسلام کے شدید دشمن تھے مگر ان کی اولادوں نے اپنے آپ کو محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں ڈال دیا اور میدان جنگ میں اپنے باپوں اور رشتہ داروں کے خلاف تلواریںچلائیں۔حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے میں شریک تھے کہ مختلف امور پر باتیں شروع ہو گئیں۔حضرت عبدالرحمٰن جو حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ کے بڑے بیٹے تھے اور جو بعد میں مسلمان ہوئے بدر یا احد کی جنگ میں کفار کی طرف سے لڑائی میں شریک ہوئے تھے انہوں نے کھا نا کھاتے ہوئے باتوں باتوں میں کہا۔ابا جان اس جنگ میں جب فلاں جگہ سے آپ گذرے تھے تو اس وقت میں ایک پتھر کے پیچھے چھپا بیٹھا تھا اور میں اگر چاہتا تو حملہ کر کے آپ کو ہلاک کر سکتا تھا مگر میں نے کہا اپنے باپ کو کیا مارنا ہے۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا خدا نے تجھے ایمان نصیب کرنا تھا اس لئے تو بچ گیا ورنہ خدا کی قسم اگر میں تجھے دیکھ لیتا تو ضرور مار ڈالتا(روض الانف جلد ۳ صفحہ ۸۹،۹۰)۔غرض کفار کے لئے یہ ایک بہت بڑا عذاب تھا کہ جس مذہب کو مٹانے کے لئے وہ کمر بستہ رہتے تھے اسی مذہب میں ان کے اپنے بیٹے اور بھا ئی اور رشتہ دار شامل ہونے لگ گئے ان واقعات کو دیکھ دیکھ کر ان کے دلوں میں کس قدر حسرت پیدا ہوتی ہوگی۔کہ ہم میں سے کسی کی بیوی اسلام میں داخل ہے،کسی کا باپ اسلام میں داخل ہے،کسی کا بیٹا اسلام میں داخل ہے کسی کا کوئی اور دوست اور رشتہ دار اسلام میں داخل ہے گویا وہ تو اپنی جانیں اسلام کے مٹانے کے لئے صرف کر رہے تھے اور اللہ تعالیٰ انہیں میں سے ایک ایک کر کے لوگوں کو اسلام کی طرف کھینچ رہا تھا،حقیقت میں یہ ایک بہت بڑا عذاب تھا کہ جس مذہب کو کچلنے کے لئے وہ کھڑے تھے اسی مذہب میں ان کے اپنے دوست اور عزیز ترین رشتہ دار شامل ہو گئے اور وہ اسلام کا جھنڈا اپنے ہاتھوں میں تھامے ہوئے اپنے باپوںاور اپنے بھائیوں کے خلاف تلواریں چلانے لگ گئے۔غرض فرماتا ہے نَارُ اللّٰهِ الْمُوْقَدَةُ الَّتِيْ تَطَّلِعُ عَلَى الْاَفْـِٕدَةِ۔اللہ تعالیٰ کفار کے دلوں پر ایک شدید آگ بھڑ کائے گا۔