تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 270
بلکہ خدا تعالیٰ کا فضل قائم رکھتا ہے۔حضرت دائود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں نے کسی نیک آدمی کی اولاد کو سات پشت تک فاقہ کرتے اور بھیک مانگتے نہیں دیکھا(زبور باب ۳۷ آیت ۲۵ )۔حالانکہ کئی کروڑ پتی ایسے ہوتے ہیں جن کی اولادیں اپنی زندگی کے دن فاقوں میں بسر کردیتی ہیں۔پس خدا تعالیٰ سے تعلق ہی ایک ایسی چیز ہے جو انسان کو خلود بخشتا ہے۔جو شخص انفاق فی سبیل اللہ سے کام لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے اموال کو بے دریغ خرچ کرتا رہتا ہے وہی شخص ہے جس کا مال اس کی بقاء کا باعث ہوتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ صحابہؓ سے فرمایا بتائو کیا تم میں سے کوئی شخص ایسا ہے جسے اس کے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ پسندیدہ ہو۔صحابہؓ نے عرض کیا یارسول اللہ یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ ہمیں اپنے مال سے اپنے وارث کا مال زیادہ محبوب ہو۔ہمیں تو وہی مال پسند ہوتا ہے جو ہمارا اپنا ہو۔آپؐنے فرمایا تو پھر یاد رکھو تمہارا مال وہی ہے جسے تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہو۔ورنہ جو کچھ تمہارے مال میں سے باقی رہ جاتا ہے وہ تمہارا نہیں بلکہ تمہارے ورثاء کا ہے کیونکہ تمہاری آنکھ کے بند ہوتے ہی اس پر قبضہ کرلیا جاتا ہے (بخاری کتاب الرقاق باب ما قدم من مالہ فھو لہ)۔یہ حدیث اسی مضمون کو بیان کرتی ہے کہ مال وہی کام آتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کیا گیا ہو۔کیونکہ دوسرا مال تو غیروں کے کام آتا ہے اور یہ مال انسان کے اپنے کام آتا ہے۔اور اگر کوئی شخص ایسا ہو جو قیامت کے دن پر ایمان نہ رکھتا ہو اور اس کا یہ عقیدہ نہ ہو کہ مرنے کے بعد کوئی شخص جنت میں جاتا ہے اور کوئی دوزخ میں۔اور جس نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنا مال خرچ کیا ہوا ہوتا ہے اسے بہت بڑا اجر ملتا ہے۔تب بھی اتنی بات تو ہر شخص جانتا ہے کہ اگر قومی ضروریات پر روپیہ خرچ کیا جائے تو انسان کا نیک نام باقی رہ جاتا ہے اور لوگ تعریف کرتے ہیں کہ فلاں شخص قوم کا بڑا خادم تھا یا غرباء کا بڑا ہمدرد تھا یا یتامیٰ و بیوگان کا بہت خیال رکھنے والا تھا۔لیکن کیا یہ عجیب بات نہیں کہ لوگ ایک طرف تو یہ تسلیم کرتے ہیں کہ دوسرے کے مال سے انہیں اپنا مال زیادہ پیارا ہوتا ہے مگر عملاً وہ یہ کررہے ہوتے ہیں کہ وہ مال جو انہوں نے اپنے ساتھ لے جانا ہوتا ہے یا جس نے ان کی نیک نامی کا موجب بننا ہوتا ہے اس سے تو وہ پیار نہیں کرتے اور جو مال دوسروں کے کام آنے والا ہوتا ہے اس سے وہ پیار کرتے اور کوشش کرتے ہیں کہ مذہبی یا قومی ضروریات پر روپیہ خرچ کرنے کی بجائے اسے جمع رکھا جائے۔حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کیا ہوا مال ہی انسان کو خلود بخشتا ہے۔جمع کیا ہوا مال خلود نہیں بخشتا۔