تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 250

وہ تمام رسیاں جن سے اس کا جوڑ جوڑ جکڑا ہوا ہوتا ہے کٹ جاتی ہیں اور وہ حریت اور آزادی کی فضا میں پہلی مرتبہ سانس لیتا ہے کیونکہ نبی کے ماننے والے اس اصل پر قائم ہوتے ہیں کہ جو سچی بات ہے اس کو ہم نے ماننا ہے اور جو غلط بات ہے اس کو ہم نے نہیں ماننا خواہ اسے کسی کی طرف سے پیش کیا جارہا ہو۔گویا وہ طوق جنہوں نے اس کی گردن کو جھکایا ہوا ہوتا ہے اور وہ سلاسل جو اس کے پائوں میں پڑی ہوتی ہیں سب کٹ جاتی ہیں اور وہ سچائی کا علمبردار بن جاتا ہے۔تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ کے چھ معنے پس تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ کے پہلے معنے یہ ہیں کہ مومن اصول صداقت پر خود بھی پوری طرح قائم ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔(۲) حَقّ کے ایک معنے جیسا کہ اوپر بتایا جاچکا ہے اللہ تعالیٰ کے بھی ہیں۔اس لحاظ سے تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ کے یہ معنے ہیں کہ مومن خدا تعالیٰ سے خود بھی مخلصانہ تعلقات رکھتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس سے مخلصانہ تعلقات پیدا کرنے کی نصیحت کرتے ہیں۔درحقیقت اقوام میں دیرینہ عادات کی وجہ سے آہستہ آہستہ خدا تعالیٰ کا وجود بالکل غائب ہوجاتا ہے اور اس کی بجائے ایک نئی شکل پیداہوجاتی ہے جس کی وہ پرستش کرنے لگتے ہیں۔آج دنیا میں جس قدر مذاہب پائے جاتے ہیں سب کی یہی حالت ہے۔عیسائیت کو دیکھ لو، ہند ومذہب کو دیکھ لو۔اور مذاہب پر نظر ڈال لو۔سب کی اصلی شکل تو مٹ چکی ہے لیکن قولی روایات نے ان کو ایک نئی شکل دے دی ہے جس کے وہ پرستار بنے ہوئے ہیں۔یہ نئی شکل مذہب کی قائم کردہ نہیں ہوتی بلکہ قوم کے بگڑے ہوئے خیالات و تصورات کی قائم کردہ ہوتی ہے۔جب دنیا میں اللہ تعالیٰ کا کوئی نبی آتا ہے تو یہ سارے بت ایک ایک کرکے گر جاتے ہیں اور اصلی خدا لوگوں کے سامنے آجاتا ہے تب لوگ بت پرستی کے گڑھوں میں سے نکلتے اور اللہ تعالیٰ کے قرب اور اس کی محبت کے میدان میں بڑھنے لگتے ہیں۔پس تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ کے ایک معنے یہ ہیں کہ مومن اللہ تعالیٰ سے مخلصانہ تعلقات رکھتے ہیں اور دوسروں کو بھی یہی نصیحت کرتے ہیں کہ تم حقیقی خدا کی پرستش کرو اور اس سے اپنے تعلقات بڑھائو۔بتوں کی پرستش میں تم اپنا وقت ضائع مت کرو۔(۳) حَقّ کے تیسرے معنے عدل کے ہیں۔اس لحاظ سے تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ کے معنے یہ ہیں کہ مومن خود بھی عدل کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی عدل سے کام لینے کی نصیحت کرتے ہیں۔درحقیقت ایک بڑی بھاری خرابی قومی روایات کی وجہ سے یہ پیدا ہوجاتی ہے کہ لوگ عدل و انصاف سے کام لینا ترک کردیتے ہیں۔ہزاروں خاندان دنیا میںایسے پائے جاتے ہیں جو اپنی پرانی روایات پر جمے ہوئے ہیں وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ہم میں سے فلاں نے یہ یہ