تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 249 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 249

وہ تمام بنی نوع انسان کے خلاف زندہ آسمان پر چلے جاتے مگر چونکہ مسلمان اس عقیدہ کے ساتھ وابستہ ہوگئے ہیں اس لئے انہیں اس کو چھوڑنا ایک مصیبت معلوم ہوتا ہے۔اسی طرح اور کئی قسم کے غلط مسائل ہیں جو زمانہ نبوت سے بُعد کی وجہ سے مسلمانوں میں رائج ہوچکے ہیں اور جن سے ادھر ادھر ہونا ان پر نہایت شاق گذرتا ہے۔لیکن اگر کوئی شخص ہمت سے کام لے کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ایمان لے آئے تو یہ طوق اور سلاسل ایک آن میں کٹ جاتے ہیں اور اسے کچھ بھی تکلیف محسوس نہیں ہوتی۔اور لوگوں کو تو یہ نظرآتا ہے کہ فلاں بات امام غزالیؒ نے کہی ہے ہم اسے کس طرح چھوڑ دیں۔فلاں بات جنیدؒ نے کہی ہے ہم اسے کس طرح چھوڑ دیں۔فلاں بات سیدعبدالقادر جیلانیؒ نے کہی ہے ہم اسے کس طرح چھوڑ دیں۔فلاں بات امام رازیؒ نے کہی ہے ہم اسے کس طرح چھوڑ دیں۔فلاں مسئلہ امام ابوحنیفہؒ نے بیان کیا ہے ہم اسے کس طرح چھوڑ دیں۔فلاں مسئلہ امام شافعیؒ نے بیان کیا ہے ہم اسے کس طرح چھوڑ دیں۔لیکن ایک احمدی کے لئے ان میں سے کوئی بھی مشکل پیش نہیں آتی کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ایک مامور پر ایمان لاچکا ہوں اور خدا تعالیٰ کی طرف سے کلام لانے والے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم میرے سامنے ہے جو کچھ وہ کہے گا وہ درست ہوگا اور جس بات کی وہ تردید کرے گا وہ غلط ہوگی۔مجھے اس بحث میں پڑنے کی ضرورت ہی نہیں کہ امام رازی یا امام غزالی یا امام ابوحنیفہ نے کیا کہا ہے میں نے تو یہ دیکھنا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کہا ہے اور مسیح موعود علیہ السلام نے خدا تعالیٰ سے کیا ہدایت پائی ہے۔غرض ہر قوم میں مختلف قسم کی غلطیاں پائی جاتی ہیں لیکن جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی مامور آتا ہے توپچھلے سارے تعلقات کٹ جاتے ہیں۔آخر بڑے بڑے آدمی بھی تو غلطی کرسکتے ہیں۔اگر ہزار مسائل وہ نہایت اعلیٰ درجہ کے پیدا کرتے ہیں تو ایک دو مسئلوں میں ان سے غلطیاں بھی ہوجاتی ہیں۔مگر ایک ایک غلطی اکٹھی ہوتے ہوتے غلطیوں کا ایک طومار بن جاتا ہے جس میں لوگ پھنس جاتے ہیں اور وہ حیران ہوتے ہیں کہ ہم اس دلدل میں سے کس طرح نکلیں اگر ہم نکلے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ ہم اپنے بزرگوںکے خلاف قدم اٹھارہے ہیں۔پس جب تک کوئی شخص نبی پر ایمان نہیں لاتا وہ کئی قسم کی مشکلات میں پھنسارہتا ہے۔لیکن ادھر اسے نبوت پر ایمان نصیب ہوتا ہے اور ادھر یک دم اس کے تمام بوجھ اتر جاتے ہیں اور وہ رسیاں جنہوں نے اس کو جکڑا ہوتا ہے سب ایک ایک کرکے ٹوٹ جاتی ہیں۔اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس شخص کو ایمان نصیب ہوتا ہے اس کے تمام گناہ دھل جاتے ہیں( مسلم کتاب الایمان باب کون الاسلام یھدم ما قبلہ )۔اس کے ایک معنے یہ بھی ہیں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے کسی نبی پرایمان لاتا ہے اس کی پچھلی تمام روایتی قیود ختم ہوجاتی ہیں۔