تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 232
نے بھی ایک مفہوم کے لحا ظ سے اپنے زمانہ کو عصر کا زمانہ قرار دیا ہے۔عَصْـرٌ کے معنے رَھْطٌ اور عَشِیْـرَۃٌ کے بھی ہوتے ہیں یعنی قبیلہ اور قوم کے معنوں میں بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے اس لحاظ سے وَ الْعَصْرِ۔اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِيْ خُسْرٍ کے معنے یہ ہوں گے کہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کو اس بات کی شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ انسان یقیناً گھاٹے کی طرف جا رہا ہے۔ان معنوں کے لحاظ سے یہاں انسان سے عام انسان مراد ہے اور قرآنی آیت کا مطلب یہ ہے کہ باقی دنیا تو تمہاری نظروں سے اوجھل ہے لیکن مکہ والے تمہارے سامنے ہیں۔اگر تم اور لوگوںکے حالات کو نہیں دیکھ سکتے تو کیا مکہ والوں کو بھی نہیں دیکھ سکتے کہ ان کی حالت کہاں سے کہاں جاپہنچی ہے۔مکہ کے لوگ ابراہیمؑ اور اسمٰعیلؑ جیسے پاک انبیاء کی نسل میں سے ہیں۔خانہ کعبہ کے پاس رہنے والے ہیں۔ان کی طرف دیکھو کہ باوجود اس کے کہ یہ ایک اچھے خاندان میں سے ہیں اور خانہ کعبہ کی حفاظت کا کام ان کے سپرد کیا گیا تھا۔پھر بھی یہ روز بروز خدا تعالیٰ سے دور ہوتے چلے جارہے ہیں۔بجائے اس کے کہ اپنے فرائض اور ذمہ واریوں کو سمجھیں اور اللہ تعالیٰ کے نام کو بلند کرنے کی کوشش کریں۔یہ لوگ مجاور بن کر بیٹھ گئے ہیں اور ان کی دن رات یہی کوشش رہتی ہے کہ لات اور منات اور عزّیٰ کو لوگ سجدے کریں اور ان پر چڑھاوے چڑھائیں جس سے ان کا گذارہ ہو۔پس وَ الْعَصْرِ کے معنے یہ ہوئے کہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کو شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ سب سے بڑھ کر یہ قوم اس بات کی مستحق تھی کہ خدا تعالیٰ کے نام کو دنیا میں پھیلاتی مگر یہ قوم بھی مجاور بن کر بیٹھ گئی ہے اور خدا تعالیٰ کے نام کو بلند کرنے کی بجائے نفسانی خواہشات کے پیچھے چل پڑی ہے۔اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ ضلالت اور گمراہی اب پورے طور پر مسلط ہوچکی ہے اور ضروری تھا کہ ان حالات کی اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نبی مبعوث ہوتا۔تیسرے معنے عصر کے رات کے ہیں۔ان معنوں کی رو سے ایک عام قاعدہ اس سورۃ میں بیان کیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ جب قوم پر تباہی کا زمانہ آتا ہے تو اس سے نکلنے کی راہ صرف ایمان و عمل صالح ہی رہ جاتا ہے یعنی بغیر خدائی ہدایت کے وہ قوم کبھی ترقی نہیں کرتی۔یہ امر ظاہر ہے کہ رات کا زمانہ تاریکی کا زمانہ ہوتا ہے۔پس اس جگہ وَالْعَصْرِ سے وہ زمانہ مراد ہے جب کسی قوم پر تباہی وارد ہوجاتی ہے اور کامیابی کی کوئی شعاع اسے دکھائی نہیں دیتی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم رات کے زمانہ کو یعنی تباہی اور بربادی کے زمانہ کو اس بات کی شہادت کے طور پر تمہارے سامنے پیش کرتے ہیںکہ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِيْ خُسْرٍ۔اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جب قوموں پر تنزّل آجاتا ہے تو اس وقت ایسی قومیں جو کسی دینی سلسلہ سے تعلق رکھتی ہیں اس تباہی سے کبھی بچ نہیں سکتیں سوائے اس کے کہ ان