تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 231
مخالفین کا ہمیشہ سے یہ دستور چلا آیا ہے کہ پہلے تو غلبہ کو ناممکن بتاتے ہیں اور جب غلبہ میسر آجاتا ہے تو کہنا شروع کردیتے ہیں کہ اس میں عجیب بات کوئی نہیں حالات کا تقاضا یہی تھا کہ انہیں غلبہ میسر آجاتا۔بہرحال ہر زمانہ میں دنیا، دنیا کے اسباب سے وابستہ ہوتی ہے لیکن زمانۂ نبوت میں اللہ تعالیٰ اسے نبوت کے ساتھ وابستہ کرکے اپنی حکومت ظاہر کرتا ہے۔ورنہ دنیوی حکومت کا انبیاء سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔وہ خدا کی خدائی ظاہر کرنے کے لئے دنیا میں آتے ہیں اور یہ خدائی ان کے زمانہ میں اس رنگ میں ظاہر ہوتی ہے کہ بغیر مادی اسباب کے ایک گری ہوئی قوم کو وہ اٹھاتے اور اسے دنیا پر غالب کرکے دکھادیتے ہیں۔تب لوگوں کو پتہ لگتا ہے کہ دنیوی ترقی میں صرف ہماری کوششوں کا دخل نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی حکومت کا بھی دخل ہے۔جب تک وہ دخل نہ دے اس وقت تک تو تدابیر کام کرتی رہتی ہیں لیکن جب وہ دخل دے دے تو ساری دنیا بے بس ہوجاتی ہے اور اس کی کوئی تدبیر اسے کامیاب نہیں کرسکتی۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس وقت دنیوی تدابیر باطل ہوجاتی ہیں۔باطل نہیں ہوتیں بلکہ ایمان کے ساتھ مل کر نتیجہ پیدا کرتی ہیں اس کے بغیر نہیں۔جیسا کہ اگلی آیت میں یہ مضمون بیان کیا گیاہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے زمانہ کو عصر کا زمانہ قرار دیا ہے گو ان معنوں کے لحاظ سے نہیں جو اوپر بیان ہوئے ہیں بلکہ اور معنوں کے لحاظ سے۔چنانچہ بخاری میں روایت آتی ہے کہ ایک شخص نے عمارت بنانے کے لئے بہت سے مزدور کام پر لگائے جنہوں نے ظہر تک کام کیا۔پھر اس نے ایک اور پارٹی مقرر کی جس نے عصر تک کام کیا۔اس کے بعد اس نے ایک تیسری پارٹی مقرر کی جس نے شام تک کام کیا۔جب دن ختم ہونے پر اس نے مزدوری تقسیم کی تو سب کو برابر بدلہ دیا۔اس پر پہلوں نے اعتراض کیا کہ ہم نے زیاہ لمبا عرصہ کام کیا تھا مگر ہمیں بھی اتنا ہی بدلہ دیا گیاہے جتنا ان لوگوں کو بدلہ دیا گیا ہے جنہوں نے ظہر سے عصر تک یا عصر سے مغرب تک کام کیا ہے۔مالک مکان نے انہیں جواب دیا کہ میں نے جو تم سے وعدہ کیا تھا آیا اس وعدہ کو میں نے پورا کردیا ہے یانہیں۔جب میں نے اس وعدہ کو پورا کردیا ہے جو میں نے تمہارے ساتھ کیا تھا اور تمہارا حق مارا نہیں تو تمہیں یہ شکوہ کیوں پیدا ہو کہ میںنے دوسروں کو تھوڑے وقت کی مزدوری پر بھی تمہارے برابر بدلہ دے دیا۔اگر میں تمہیں کم مزدوری دیتا تو بے شک تم اعتراض کرسکتے تھے لیکن جب میں نے تمہیں پوری مزدوری دے دی تو اس کے بعد اگر میں نے کسی کو کام سے زیادہ بدلہ دے دیاہے تو اس پر تمہیں اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں۔پھر آپ نے فرمایا پہلی مزدور قوم سے یہودی مراد ہیں، دوسری مزدور قوم سے نصاریٰ مراد ہیں اور تیسری مزدور قوم سے اے مسلمانو تم مرادہو۔( صحیح بخاری کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الی نصف النـھار ) اس سے معلوم ہوتاہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم