تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 230 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 230

بعض ایسے مصنّف پیدا ہوجائیں گے جو کہیں گے کہ احمدیت نے اگر غلبہ پالیا تو یہ کون سی بڑی بات ہے۔دنیا میں اس وقت حالات ہی ایسے پیدا ہورہے تھے کہ جن کے نتیجہ میں اس نے جیت جانا تھا۔یورپ میں تنزّل کے آثار پیدا تھے۔ایشیا میں تنزّل کے آثار پیدا تھے اور حکومتوں کی بنیادیں بالکل کھوکھلی ہوچکی تھیں۔ایسی حالت میں اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ پیشگوئی شائع کردی کہ ایک زمانہ میں احمدیت سارے جہان پر غالب آجائے گی تو یہ کوئی پیش گوئی نہیں کہلاسکتی۔مگر سوال تویہ ہے کہ کیا آج دنیا میں کوئی شخص ایسا ہے جو اس دعویٰ کو معقول قرار دے سکے اور کہہ سکے کہ واقعہ میں ایک دن احمدیت کا سب جہان پر غلبہ ہوجائے گا۔اگر آج نہیں کہتے تو دو تین سو سال کے بعد غلبہ میسر آنے پر یہ کہنا کہ غلبہ تو ہو ہی جانا تھا اپنے اندر کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔یہ لوگوں کے جھوٹا ہونے کی ایک بیّن علامت ہوتی ہے کہ جب وقت گذرجاتا ہے تو نشاناتِ الٰہیہ پر پردہ ڈالنے کے لئے کئی قسم کے بہانے بنانے لگ جاتے ہیں اور پیش گوئیوں کی وقعت کم کرنے کے لئے یہ کہنا شروع کردیتے ہیں کہ زمانہ کے حالات ہی ایسے تھے جن سے یہ نتیجہ نکلتا۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تو گذرچکا۔اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا زمانہ ہے اور آپ نے بطور پیش گوئی یہ اعلان فرمایا ہے کہ احمدیت کی ترقی کی پیش گوئی ’’اے تمام لوگو سن رکھو کہ یہ اس کی پیش گو ئی ہے جس نے زمین و آسمان بنایا۔وہ اپنی اس جماعت کو تمام ملکوں میں پھیلادے گا اور حجت اور برہان کے رو سے سب پر ان کو غلبہ بخشے گا۔وہ دن آتے ہیں بلکہ قریب ہیں کہ دنیا میں صرف یہی ایک مذہب ہوگا جو عزت کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔خدا اس مذہب اور اس سلسلہ میں نہایت درجہ اور فوق العادت برکت ڈالے گا اور ہر ایک کو جو اس کے معدوم کرنے کا فکر رکھتا ہے نامراد رکھے گا اور یہ غلبہ ہمیشہ رہے گا یہاں تک کہ قیامت آجائے گی‘‘۔( تذکرہ صفحہ ۴۱۰ نیز تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۶۶) مولوی ثناء اللہ صاحب بارہا اعتراض کیا کرتے ہیں کہ اس پیشگوئی پر مدتیں گذرچکی ہیں مگر ابھی تک احمدیت کو غلبہ میسر نہیں آیا۔لیکن کچھ عرصہ گذرنے پر جب احمدیت کو دنیا میں کامل غلبہ حاصل ہوگیااس وقت مولوی ثناء اللہ صاحب کے جو چیلے موجود ہوں گے وہ کہیں گے کہ یہ تو نظر ہی آرہاتھا کہ جماعت احمدیہ نے جیت جانا ہے۔اس وقت تنزّل کے آثار یورپ میں پیدا ہوچکے تھے۔اس وقت تنزّل کے آثار ہندوئوں میں پیدا ہوچکے تھے۔اس وقت تنزّل کے آثار مسلمانوں میں پید اہوچکے تھے اور حالات کا تقاضا یہی تھا کہ احمدیت ان کے مقابلہ میں جیت جاتی۔غرض