تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 229 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 229

اس میں اچنبھے کی کوئی بات نہیں۔قیصر کی حکومت اس وقت اپنے اندرونی زوال کی وجہ سے ٹوٹ رہی تھی۔کسریٰ کی حکومت میں ضعف و اختلال کے آثار پیدا ہوچکے تھے اور سب لوگ سمجھ رہے تھے کہ یہ حکومتیں اب جلد مٹ جانے والی ہیں۔ایسی حکومتوں پر اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غالب آگئے تو اس میں کوئی ایسی بات نہیں جسے معجزہ قرار دیاجاسکے۔مگر سوال تو یہ ہے کہ کیا عرب کی حالت قیصر وکسریٰ کی حکومتوں سے اچھی تھی؟ اگر اچھی ہوتی تب تو کہا جاسکتا تھا کہ چونکہ عرب کی حالت اچھی تھی اور قیصر و کسریٰ کی حالت خراب تھی اس لئے اہل عرب نے قیصر و کسریٰ کی حکومتوں کو تاراج کردیا۔مگر ہر شخص جو تاریخ سے معمولی واقفیت بھی رکھتا ہے جانتا ہے کہ قیصر و کسریٰ کے مقابلہ میں عرب کی کوئی حیثیت ہی نہیں تھی۔پس سوال یہ ہے کہ کیا قیصر و کسریٰ کی حکومتوں نے عرب کے مقابلہ میں ہی ٹوٹنا تھا اور پھر ان عربوں کے مقابلہ میں جن کا اپنا حال خراب تھا اور کیا عرب کے لوگوں میں سے بھی اس شخص کے ہاتھ سے قیصر و کسریٰ کی حکومتوںنے پاش پاش ہونا تھا جس کوکچلنے کے لئے خود عرب کے لوگ کھڑے ہوگئے تھے؟ اور وہ سمجھتے تھے کہ قیصر و کسریٰ تو الگ رہے، عرب کے لوگ تو الگ رہے صرف مکہ کے رہنے والے ہی اس کو کچلنے کے لئے کافی ہیں۔ہر شخص جو حالات پر غور کرکے صحیح نتائج اخذ کرنے کا ملکہ اپنے اندر رکھتا ہے وہ ایک لمحہ کے لئے بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ قیصر و کسریٰ کی حکومتوں کو وہ اکیلا شخص پاش پاش کرنے کی اپنے اندر اہلیت رکھتا تھا جس کے متعلق خود مکہ کی بستی والے یہ سمجھتے تھے کہ یہ ہمارے مقابلہ میں بھی نہیں ٹھہر سکتا ہم اسے کچل کر رکھ دیں گے۔مگر جب مکہ کی بستی والے یہ کہہ رہے تھے کہ ہم اس کو مٹادیں گے اس وقت وہ اپنی کمزوری کے باوجود دنیا کو پکار کرکہتا تھا کہ مکہ اور عرب تو کیا ہے میں قیصر وکسریٰ کی حکومتوںکو بھی مٹادوں گا۔اور ہم دیکھتے ہیں کہ جیسا کہ اس نے کہا تھا ویسا ہی وقوع میں آگیا۔اگر یہ باتیں ایسی ہی ظاہر تھیں جیسے آج یورپین مصنّف لکھتے ہیں تو مکہ کے لوگ کیوں کہتے تھے کہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مٹادیں گے۔عرب کے لوگ کیوں کہتے تھے کہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مٹادیں گے۔ان کا بڑے زور سے یہ اعلان کرنا کہ اسلام کو ہم کچل کر رکھ دیں گے بتاتا ہے کہ وہ سمجھتے تھے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اندر کوئی طاقت نہیں رکھتے۔قیصر و کسریٰ کی حکومتیں تو کجا مکہ کی بستی والوں کا مقابلہ کرنا بھی ان کی طاقت سے باہر ہے۔مگر پھر وہ زمانہ آیا جب وہ اکیلا اور کمزور شخص بڑھا اور بڑھتے بڑھتے اس مقام تک پہنچا کہ قیصر و کسریٰ بھی اس کے مقابلہ کی تاب نہ لاسکے۔یہی حالت اس وقت ہماری ہے۔ہم دنیا میں سب سے زیادہ کمزور اور سب سے زیادہ بے سامان ہیں اور کوئی شخص ظاہری سامانوں کے لحاظ سے یہ خیال بھی نہیں کرسکتا کہ ہم کسی دن ساری دنیا پر غالب آجائیں گے۔لیکن آج سے دو تین سو سال کے بعد جب احمدیت کا سب جہان پر غلبہ ہوگیا یورپین مصنّفین کی طرح