تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 208 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 208

حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ کی جگہ حتّٰی مُتُّمْ فرماتا تو یہ مضمون ادا نہ ہو سکتا۔حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے مضمون میں ایک خاص شان اور جدت پیدا کرتے ہوئے بنی نوع انسان کو اس نہایت اہم نکتہ کی طرف توجہ دلائی ہے کہ قومی تباہی کی بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ لوگ ناجائز تکا ثر سے کام لینا شروع کر دیتے ہیں اور وہ تمام نیک اخلاق جو انسان کی قومی اور مذہبی زندگی کا اصل باعث ہوتے ہیں ان کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس روح مفاخرت کی وجہ سے قوم اپنے مقام سے گرتی چلی جاتی ہے یہاں تک کہ ایک دن ایسا آتا ہے جب موت اس پر پوری طرح سوار ہو جاتی ہے اور ترقی کی دوڑ میں ایک بے جان جسم سے بڑھ کر اس کی کوئی حقیقت نہیں رہتی۔كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ۰۰۴ ( خوب یاد رکھوکہ تمہاری حالت) اس طرح نہیں (جس طرح تم سمجھتے ہو بلکہ)تم لوگ (قرآن کریم کی بیان کردہ حقیقت کو) جلد ہی جان لو گے ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَؕ۰۰۵ پھر (ہم کہتے ہیں کہ تمہاری حالت)یوں نہیں(جس طرح تم سمجھتے ہو )تم عنقریب ہی(اس بات کو ) جان لو گے۔تفسیر۔كَلَّا ہمیشہ زجر کے لئے استعمال ہوتا ہے اس جگہ بھی اہل مکہ کو خبر دار اور ہوشیار کرنے کے لئے یہ لفظ استعمال کیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ ان سے خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ خبردار تمہاری یہ حالت سخت خطرے والی ہے ہم نے جو کہا ہے کہ اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُ۔حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ۔تمہیں تکاثر نے گراتے گراتے اس حالت تک پہنچادیا ہے کہ تم مقبرہ میں جا پہنچے ہو۔ہماری اس بات کی سچائی کو ابھی تم سمجھے نہیں اور تم خیال کرتے ہو کہ یہ محض ایک بڑ ہے۔مگر یاد رکھو تھوڑے ہی دنوں تک تمہیں اچھی طرح پتہ لگ جائے گا کہ ہماری بات با لکل سچی ہے اور زندگی کے آثار تم میں موجود نہیں رہے۔دیکھو اگر یہاں مقابر سے ظاہری قبریں مراد ہوتیں تو كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ۔ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ کے کیا کوئی بھی معنے ہو سکتے تھے۔کیا ابو جہل، عتبہ اور شیبہ یہ تسلیم نہیں کرتے تھے کہ ہم نے ایک دن مر جانا ہے۔جب وہ بھی تسلیم کرتے تھے کہ انسان فا نی ہے اور وہ تھوڑی سی عمر لے کر اس دنیا میں آیا ہے تو یہ کہنا کس قدر بے معنی ہو جاتا تھا کہ ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ تم نے ضرور مرنا ہے دیکھو ہم پھر تمہیں بتاتے ہیں کہ تم نے ضرور مرنا ہے اس صورت