تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 194
اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُ کے معانی کو محدود کرنے کی کوشش بعض روایات میں اس وسیع المطالب سورۃ کے مضامین کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔چنانچہ کلبی کہتے ہیں کہ بنوعبد مناف اور بنو سہیم کے درمیان بحث ہوئی کہ اسلام میں کون زیادہ معزز ہے۔چنانچہ بنو عبد مناف اور بنو سہیم دونوں نے پہلے اپنے اپنے زندہ سردار اور لیڈر اور جرنیل گنانے شروع کئے۔بنو عبد مناف نے کہاکہ ہم میں اتنے سردار ہیں، اتنے قاضی ہیں، اتنے جرنیل ہیں اور اتنے لیڈر ہیں اور بنو سہیم نے اپنے سردار اور قاضی اور لیڈر اور جرنیل گنائے آخر بنو عبد مناف بڑھ گئے۔جب بنو سہیم نے دیکھا کہ یہ لوگ زندوں کا مقابلہ کرنے میں ہم سے جیت گئے ہیں تو انہوں نے کہا آئو ہم سے مردوں میں مقابلہ کرلو۔دیکھو کہ ہم میں سے زیادہ لوگ اسلام کے لئے قربان ہوئے یا تم میں سے زیادہ لوگوں نے اسلام کے لئے اپنی جانیں قربان کی ہیں۔چنانچہ بنو عبد مناف اور بنو سہیم دونوں مقبروں میں گئے اور انہوں نے اپنے اپنے مردے گنانے شروع کئے کہ ہم میں سے اتنے لوگوں کو خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان قربان کرنے کا شرف حاصل ہوا ہے اور تم میں سے اتنے لوگوں کو یہ سعادت حاصل ہوئی ہے۔اس پر یہ سورۃ نازل ہوئی کہ اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُ۔حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ۔تمہیں تکاثر نے اس حد تک غافل کردیا ہے کہ تم قبروں میں گئے اور تم نے مردے گنانے شروع کردیئے۔اس روایت کے برخلاف ابوہریرہؓ سے یہ روایت بیان کی جاتی ہے کہ انصار کے دو قبائل بنو حارثہ اور بنوالحرث نے یہ مقابلہ کیا تھا انہوں نے پہلے اپنے زندہ لیڈر گنوائے اور پھر مردہ (روح المعانی زیر سورۃ التکاثر)۔لیکن مقاتل اور قتادہ کے نزدیک یہاں نہ بنو عبد مناف اور بنو سہیم کا ذکر ہے نہ بنو حارثہ اور بنو الحرث کا۔بلکہ یہاں یہود کا ذکر ہے(فتح البیان زیر سورۃ التکاثر)۔ان روایات کے تشتت اور اختلاف سے ہی پتہ لگتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی قطعی بات ثابت نہیں۔اگر ثابت ہوتی تو یہ تین الگ الگ قسم کی روایات کیوں آتیں۔کیونکہ بعض کا ذہن انصار کی طرف چلا جاتا بعض کا یہود کی طرف اوربعض کا بنوعبد مناف اور بنوسہیم کی طرف۔یہ کہنا کہ اس سورۃ کا شانِ نزول یہی ہے اس کا مطلب جیسا کہ میں نے بارہا بتایاہے صرف اتنا ہے کہ اس واقعہ پر بھی یہ سورۃ چسپاں ہوتی ہے نہ یہ کہ اس واقعہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ کو نازل فرمایا۔ممکن ہے بعض دفعہ بنو حارثہ اوربنو الحرث کا آپس میں اس طرح مقابلہ ہوا ہو اور کسی نے کہا ہو کہ تمہاری تو وہی حالت ہے جو اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُ میں بیان کی گئی ہے یا کبھی بنو عبد مناف اور بنو سہیم میں مقابلہ ہوا ہو اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی کہہ دیا ہو کہ تم یہ کیا لغو حرکت کررہے ہو۔تمہاری تو وہی مثال ہے جو اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُ میں بیان ہوئی ہے۔مگر اس کے یہ معنے نہیں ہوسکتے کہ یہ سورۃ ان کے لئے نازل ہوئی تھی کیونکہ قرآن کریم نبوت حقہ کے قیام اور اسلام کے استحکام کے لئے آیا ہے