تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 175
پھریں گے۔یہی حال اس عذاب کے نتیجہ میں پہاڑوں کا ہو گا۔ابھی تک پہاڑوں کے متعلق ایٹم بم کا تجربہ نہیں کیا گیا لیکن کہا جاتا ہے کہ اس میں اس قسم کی ترقی ہو گی کہ پہاڑ بھی اس کی زد سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔جہاں تک پھیلائو کا سوال ہے یہ بم کسی چیز کو نہیں چھوڑتالیکن جہاں تک گہرائی کا سوال ہے ابھی ماہرین کی تحقیق مکمل نہیں ہوئی لیکن امید کی جاتی ہے کہ اس بم کو ترقی دے کر ایسا خطرناک بنا دیا جائے گا کہ پہاڑوں اور قلعوں کو بھی ایک آن میں اڑا دے گا۔اَلْقَارِعَةُ کے ایک معنے قیامت کے بھی کئے گئے ہیں اور یہی لفظ ہے جو ہیرو شیما اور ناگاساکی پر بم گرائے جانے کے بعدآج تک متواتر استعمال کیا جارہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اگر اس کے بعد بھی جنگ نہ چھوڑی گئی تو اس کے معنے یہ ہیں کہ دنیا پر قیامت آگئی۔بعض نے کہا ہے کہ اس کے نتیجہ میں انسانی وجود ہی مٹ جائے گا اور بعض نے کہا ہے ممکن ہے انسانی وجود تو باقی رہے مگر یہ یقینی امر ہے کہ موجودہ تہذیب کا نام ونشان تک باقی نہیں رہے گا۔کیونکہ شہر مٹ جائیں گے۔قصبات برباد ہو جائیں گے دیہات تباہ ہو جائیں گے اور جو تھوڑے بہت متنفس باقی رہیں گے وہ جنگلوں میں اپنی زندگی کے دن گذارنے لگیں گے بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر اس بم کو آزادانہ استعمال کیا گیا تو ایسی خطرناک تباہی دنیا میں واقعہ ہو گی کہ وہ لوگ جو نسل انسانی میں سے باقی رہیں گے اس بات سے بھی ناواقف ہو جائیں گے کہ آگ کس طرح جلائی جاتی ہے کیونکہ کارخانے مٹ چکے ہوں گے۔علم وفن کے جاننے والے سب تباہ ہو چکے ہوں گے اور غم کے اثرات زائل کرنے کے لئے لوگ اپنی گذشتہ روایات کو بھی فرا موش کر دیں گے تب لوگ ایک بار پھر چقماق سے کام لینا شروع کر دیں گے۔پھر وہی دور دنیا میں آجائے گا جو اس دور تہذیب سے پہلے ایک دفعہ آچکا ہے۔پھر نئے سرے سے ایجادات عمل میں آئیں گی۔اور پھر ایک لمبے عرصہ کے بعد دیا سلائی ایجاد کی جائے گی غرض لوگوں نے ابھی سے اس قسم کے نقشے کھینچنے شروع کر دیئے ہیں جو بتاتے ہیں کہ يَوْمَ يَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِ وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِ میں ایٹم بم کا ہی نقشہ کھینچا گیا ہے اور واقعہ میں ایسی خطرناک تباہی دنیا میں اور کون سی ہو سکتی ہے کہ صرف دو بموں سے اس قدر بڑی حکومت نے جس کے پاس اب بھی نوّے لاکھ فوج تھی ہتھیار ڈال دئیے اور اتحادیوں کے سامنے اسے اپنا سر جھکانا پڑا۔جَبَلٌ کے معنے سردار قوم اور بڑے آدمی کے بھی ہوتے ہیں(اقرب)۔ان معنوں کے رو سے آیت کا یہ مفہوم ہوگا کہ اس دن بڑے بڑے آدمی دھنکی ہوئی روئی کی طرح ہو جائیں گے یعنی ان کی طاقت زائل ہو جائے گی۔اور وہ کھوکھلے ہو جائیں گے یہ ظاہر ہے کہ بڑے آدمیوں کی بڑائی ان کی انتظامی قابلیت میں ہوتی ہے لیکن اس قسم کے