تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 171 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 171

بَثَّ کا لفظ نَشْـر وَاِذَاعَۃ کے معنوں میں آیا ہے اسی کو وسیع کرکے لغت میں کہتے ہیں بَثُّو الْـخَیْلَ فِی الْاِغَارَۃِ انہوں نے حملہ کیا تو گھوڑے دوڑا کر لے گئے یا بَثَّ کِلَابَہٗ عَلَی الصَّیْدِ شکار کے پیچھے کتے ڈال دیئے۔اسی طرح کہتے ہیں خَلَقَ اللہُ الْـخَلْقَ فَبَثَّـھُمْ فِی الْاَرْضِ۔اللہ تعالیٰ نے مخلوق پیدا کی اور پھر اسے زمین میں پھیلادیا (اقرب)۔گویا بَثَّ کے معنے پھیلادینے، دوڑانے یا دور تک لے جانے کے ہوئے۔تفسیر۔ان تمام معانی کوملحوظ رکھتے ہوئے جو لغت نے بیان کئے ہیں يَوْمَ يَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِ کے ایک معنے تو یہ ہوں گے کہ جیسے پراگندہ پروانے ہوتے ہیں ویسی ہی لوگوں کی کیفیت ہوگی۔پروانے کی دو حالتیں ہوتی ہیں۔ایک تو وہ جب وہ لیمپ کے سامنے ہو۔اور ایک وہ حالت ہوتی ہے جب لیمپ سے علیحدہ ہو۔جب روشنی سامنے ہو تو سارے پروانے روشنی کی طرف جاتے ہیں لیکن اگر لیمپ کو اٹھا لو اور اندھیرا کر دو تو کوئی ٹڈا اس کونے کی طرف جا رہا ہوتا ہے اور کوئی اس کونے کی طرف۔سب منتشر اور پراگندہ ہو جاتے ہیںاور اگر برسات کا موسم ہو تو چھوٹے چھوٹے پروانے ہی نہیںبڑے بڑے ٹڈے بھی لیمپ کی طرف جاتے ہیں۔اس کی وجہ علم ا لحیوانات کے ماہرین یہ بتا تے ہیں کہ پروانوں کی اصل جگہ زمین کے اندر ہوتی ہے جب بارش برستی ہے تو ان کے دلوں میں امنگ پیدا ہوتی ہے کہ ہم باہر نکلیں۔چنانچہ باہر نکلنے کی امنگ میں ہی وہ زمین سے باہر آتے ہیں اور جب لیمپ کو جلتا دیکھتے ہیں تو خیال کرتے ہیں کہ یہ کوئی اور سوراخ ہے جس سے پَرے کوئی اور عالم ہے وہ جوش کی حالت میں لیمپ پر کودتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ابھی ہمارے لئے آزادی کا مقام باقی ہے۔بہرحال کوئی بھی وجہ ہو یہ امر ظاہر ہے کہ جب لیمپ روشن ہو تو پروانے اس کے اردگرد جمع ہوجاتے ہیں اور جب لیمپ بجھادو تو وہ پراگندہ ہوجاتے ہیں۔پس يَوْمَ يَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِ کے یہ معنے ہوئے کہ اس وقت لوگ اس حال میں ہوں گے جیسے پراگندہ پروانے ہوتے ہیں جن کو روشنی نظر نہیں آتی اور وہ ادھر ادھر بھٹکتے پھرتے ہیں گویا لوگوں کی حالت بالکل ایسی ہوگی جیسے بغیر لیمپ کے پروانوں کی حالت ہوتی ہے۔انہیں کوئی روشنی نظر نہیں آئے گی۔کوئی جہت ایسی دکھائی نہیں دے گی جو ان کے لئے بچائو کا موجب ہوسکے۔وہ حیران ہوں گے کہ ہم کہاں جائیں، کدھرجائیں اور اپنے بچائو کی کیا صورت اختیار کریں۔گویا ان کی بے بسی اپنے کمال کوپہنچی ہوگی۔چونکہ فَرَاشٌ کے ایک معنے ٹڈیوں کے بھی ہیں اس لئے كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِ کے یہ معنے بھی ہوسکتے ہیں کہ ان کی حالت ان ٹڈیوں کی طرح ہوگی جو پراگندہ کردی جاتی ہیں۔اَلْقَارِعَةُ پر بحث کرتے ہوئے میں نے بتایا تھا