تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 170
يَوْمَ يَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِۙ۰۰۵ (یہ مصیبت جب آئے گی)اس وقت لوگ پراگندہ پروانوںکی طرح(حیران پھررہے)ہوں گے حلّ لُغات۔فَرَاشٌ۔فَرَاشٌ اپنی ذات میں ایک علیحدہ لفظ بھی ہے اور فَرَاشَۃٌ کی جمع بھی ہے فَرَاشَۃٌ کی جمع ہونے کی صورت میں فَرَاشٌ ان پروانوں کو کہا جاتا ہے جورات کو لیمپ کی روشنی میں اکھٹے ہو جاتے ہیں چنانچہ لغت میں لکھا ہے حَیَوَانٌ ذُوْجَنَاحَیْنِ یَطِیْـرُ وَیَتَـھَافَتُ عَلَی ا لسِّـرَاجِ فَیَحْتَـرِقُ۔یعنی فراشہ اس کیڑے کو کہا جاتا ہے جو لیمپ روشن ہونے پربے تحاشا اس کی طرف دوڑتا اور جل کر مر جاتا ہے اور فَرَاشٌ کے معنے غَوْغَاءُ الْـجَرَادِ کے بھی ہوتے ہیں (اقرب) یعنی جب ٹڈی دل آتا ہے تو اس سے فضاء میں جوشور کی آواز پیدا ہوتی ہے اس کو بھی فراش کہتے ہیں کیونکہ ٹڈی جب آتی ہے تو لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں آتی ہے اور اس کے آنے سے بھنبھناہٹ کی آ واز پیدا ہوتی ہے۔بعض مفسرین نے جوائمہ لغت میں سے ہیں انہوں نے فراش کوٹڈی کے معنوں میں بھی لیا ہے۔جیسا کہ میں بتا چکا ہوں فَرَاشَۃٌ کی جمع ہونے کے علاوہ فَرَاشٌ اپنی ذات میں ایک علیحدہ لفظ بھی ہے۔چنانچہ لغت میں اس کے معنے یہ لکھے ہیں کہ مَا یَبِسَ بَعْدَ الْمَاءِ مِنَ الطِّیْنِ عَلَی الْاَرْضِ آسمان سے پانی برسنے کے کچھ عرصہ بعد زمین پر جو پپڑیاں جم جاتی ہیں ان کو بھی فَرَاشٌ کہتے ہیں (اقرب)۔اور فَرَاشٌ ان بلبلوں کو بھی کہتے ہیں جونبیذ پرآجاتے ہیں۔منقیٰ کوجب پانی میں بھگویا جائے تو تھوڑی دیر کے بعد کچھ بلبلے اٹھنے شروع ہوجاتے ہیں۔دراصل جس قدر شکر والی چیزیں ہیں ان کے اندر ایک خاص مادہ پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے اگر ان کوپانی میں بھگویا جائے تو جھاگ وغیرہ پیدا ہونی شروع ہوجاتی ہے۔چنانچہ گڑ میں سے، گنے کی رس میں سے، کھجور کی رس میں سے، منقیٰ میں سے کچھ عرصہ کے بعد بلبلے پیدا ہونے شروع ہوجاتے ہیں۔جس وقت یہ بلبلے اٹھ اٹھ کر پانی کی سطح پر پھیل جاتے ہیں تو ان کو فراش کہتے ہیں (اقرب)۔اَلْمَبْثُوْثُ۔بَثَّ سے اسم مفعول کا صیغہ ہے اور بَثَّ الْـخَیْـرَ (بَثًّا وَبَثَّثَہٗ وَاَبَثَّہٗ) کے معنے ہوتے ہیں نَشَـرَہٗ وَاَذَاعَہٗ۔خیر کو پھیلایا (اقرب)۔یعنی لوگوں میں نیکی پھیلائی یا صدقہ و خیرات کا عام چرچا کیا اور بَثَّ الْغُبَارَ کے معنے ہوتے ہیں ہَیَّجَہٗ غبار کو زمین میں سے اٹھایا (اقرب)۔جیسے قرآن کریم میں هَبَآءً مُّنْۢبَثًّا (الواقعۃ:۷) زمین میں سے غبار اٹھانے کے معنوں میں ہی استعمال ہوا ہے۔وَفِیْ مَعْنٰی نَشْـرِہٖ وَاَذَاعِہٖ ’’ بَثُّو الْـخَیْلَ فِی الْاِغَارَۃِ‘‘۔اور یہ جو