تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 169
قریب آجاتا ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ اپنی صفات کے ذریعہ انسان کو نظر آجاتا ہے مگر صفات بھی اپنی ذات میں نظر نہیں آتیں بلکہ نتیجہ سے نظر آتی ہیں۔جب ہم دنیا میں ربوبیت کے مختلف نظارے دیکھتے ہیں تو ایک رب خدا ہماری آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔جب ہم دنیا میں رحمانیت کے نظارے دیکھتے ہیں تو ایک رحمٰن خدا ہماری آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔جب ہم دنیا میں رحیمیت کے نظارے دیکھتے ہیں تو ایک رحیم خدا ہماری آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔جب ہم دنیا میں اس کی مالکیت کے نظارے دیکھتے ہیں تو مالک یوم الدین خدا کا ایک ناقص تصور ہمارے ذہن میں آجاتا ہے۔یہ خدا تعالیٰ کی رویت ہے جو مومنوں کو نصیب ہوتی ہے پھر اس سے اوپر کوئی انسان ترقی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے انوار اس کے قلب پر نازل ہونے شروع ہوجاتے ہیں اور اس کے اندر نئی طاقتیں، نیا جوش، نئی محبت اور نئی روحانی قوتیں پیدا کر دی جاتی ہیں۔پھر اور ترقی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا کلام اس پر نازل ہونا شروع ہو جاتا ہے اس طرح درجہ بدرجہ وہ ترقی کرتا چلا جاتا اور ایک رویت سے دوسری رویت کا مقام حاصل کرتا جاتا ہے مگر بہر حال وہ جتنا بھی بڑھ جائے آخر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام تو اسے حاصل نہیں ہو سکتا جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے ہیں کہ نُوْرٌ اَنّٰی اَرَاہُ تو اور کون ہے جو کسی روحانی مقام پر پہنچ کر یہ دعویٰ کرسکے کہ میں نے خدا تعالیٰ کو دیکھ لیا ہے وہ جو کچھ بھی دیکھے گا خدا تعالیٰ کی ایک تجلی ہوگی جو اس کے اپنے مقام کے مطابق اس پر ظاہر ہوگی۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر خدا تعالیٰ کی یہ تجلی اس رنگ میں ہوئی کہ روح القدس آپ پر کبوتر کی شکل میں نازل ہوا اور اس نے خدا تعالیٰ کا پیغام آپ کو پہنچایا(مرقس باب ۱آیت ۱۰)۔بعض اور انبیاء ایسے ہیںجن پر یہ تجلی کسی اور رنگ میں ہوئی۔کسی کو خدا تعالیٰ نار میں نظر آگیا۔کسی کو کامل انسان کی صورت میں نظر آگیا۔کسی کو صفات الٰہیہ کے ظہور کی صورت میں نظر آگیا اور کسی کے قلب پر اس کا پَرتو پڑ گیا۔بہرحال وہ اتنا ہی نظر آئے گا جتنا کسی کا قلب آسمانی انوار سے حصہ رکھتا ہو گا اور تمثیل پر ہی ہر صورت میں کفایت کرنی پڑے گی۔غرض ہر ایسی چیز جس کی حقیقت کا سمجھنا انسان کے لئے ناممکن ہو اسے صرف اسی رنگ میں بیان کیا جاسکتا ہے کہ اس کے نتائج بیان کر دیئے جائیںیا تمثیلی رنگ میں اس کا نقشہ کھینچ دیا جائے اس لئے پہلے یہ بتا کر کہ اس قارعہ کی حقیقت قبل از وقوع تمہاری سمجھ میں نہیں آسکتی اللہ تعالیٰ اس قارعہ کے نتائج بیان کر کے اسے قریب الفہم بناتا ہے اورفرماتا ہے وَمَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْقَارِعَةُ کون سی چیز تجھے بتا سکتی ہے کہ یہ قارعہ کیا ہے یعنی تمہاری قوت واہمہ ایسی نہیں کہ ہمارے بیان سے تم اس کی حقیقت کو سمجھ سکو اس لئے ہم اس کے کچھ نتائج بیان کر دیتے ہیںتا تم کچھ اس کی عظمت وہیبت کا اندازہ کر سکو۔