تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 160 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 160

میں پہنچ کر اسی چوٹ کی وجہ سے ان کا انتقال ہو گیا۔(السیرۃ النبویۃ لابن ھشام زیر عنوان خروج زینب الی المدینۃ) اب بتائو اس میں کون سی شرافت ہے کہ ایک اکیلی لڑکی اونٹ پر سوار ہو کر مدینہ جا رہی ہے وہ حاملہ ہے کسی کا کچھ بگاڑ نہیں رہی مگر کفار شرافت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس پر حملہ کرتے ہیں اسے اونٹ سے گرا دیتے ہیں اور اس قدر تکلیف پہنچاتے ہیں کہ مدینہ پہنچ کر اس کا انتقال ہو جاتا ہے کیا دنیا کا کوئی بھی انسان اس قسم کے سلوک کو جائز قرار دے سکتا ہے اور کیا کوئی شخص بھی اس قسم کے حالات کو دیکھ کر یہ کہہ سکتا ہے کہ مکہ والوں میں انسانیت کا کوئی شائبہ بھی پایا جاتا تھا۔یہ ایسی ذلیل غیر شریفانہ حرکت تھی کہ ہند جیسی دشمن اسلام عورت نے اس کو سن کر اپنے کفر کی حالت میں بھی اسے برداشت نہ کیا اور جب وہ شخص اس کے سامنے آیا تو اسے طعنہ دیا کہ اب مکہ کے بہادر آدمیوں کا شغل بے کس اور حاملہ عورتوں پر حملہ کرنا رہ گیا مسلمان بہادروں کے سامنے وہ بھیگی بلی کی طرح دبک کر بیٹھ جا تے ہیں۔جب مکہ والوں کے مظا لم بڑھ گئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آخر مکہ چھوڑ کر مدینہ چلے جاتے ہیں اور کہتے ہیں اگر تم مجھے اس شہر میں دیکھنا پسند نہیں کرتے تو میں تمہارا شہر ہی چھوڑ کر چلا جاتا ہوں تم اب تو میرا پیچھا چھوڑ و۔مگر وہ پھر بھی باز نہیں آتے اور تین سو میل پر پہنچ کر مسلمانوں پر حملہ کرتے ہیں۔یہ وہ گند ہے جو ان کے دلوں میں مخفی تھا اور جس کے ظہور پر اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی گرفت میں لے لیا۔پس حُصِّلَ مَا فِي الصُّدُوْرِ کو پہلے اور اِنَّ رَبَّهُمْ بِهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّخَبِيْرٌ کو بعد میں رکھنا بے معنی نہیں بلکہ اس میںبہت بڑی حکمت ہے اور وہ یہ کہ ہم پہلے ان لوگوں کے گند ظاہر کریں گے اور پھر ان پر مسلمانوں سے حملہ کرائیں گے تا دنیا یہ نہ کہہ سکے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں نے ظلم کیا۔وہ ان برائیوں کے ظاہر ہونے کے بعد ہمارے حکم کے ماتحت ان کو ماریں گے اور خوب ماریں گے اور دنیا بھی تسلیم کرے گی کہ مسلمانوں نے جو کچھ کیا درست کیا انہوں نے مارا تو اچھا کیا بلکہ انہیں اور زیادہ مارنا چاہیے تھا کیونکہ وہ اسی بات کے مستحق تھے۔پس حُصِّلَ مَا فِي الصُّدُوْرِ کو پہلے رکھ کر اس حجت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو کفار پر پوری کی جائے گی۔فرماتا ہے ہم انہیں پہلے سزا نہیں دیں گے بلکہ حجت تمام ہونے پر سزا دیں گے بے شک پہلے بھی ان کے دلوں میں وہی گند تھا جو بعد میں ظا ہر ہوا مگر پہلے اگر ہم سزا دیتے تو دنیا کہتی یہ تو بڑے بزرگ تھے۔نیک اور پارسا تھے ان کو کیوں سزا دی گئی ہے مگر اب لوگ یہ نہیں کہہ سکیں گے۔وہ تسلیم کریں گے کہ جو کچھ ان سے سلوک ہوا وہ با لکل بجا اور درست ہے غرض اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ رَبَّهُمْ بِهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّخَبِيْرٌ ہم خبیر ہیں ان لوگوں کے اندرونی حالات کو خوب جانتے ہیں مگر ہم حجت تمام ہونے کے بعد ان کو