تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 159 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 159

یعنی نہ صرف ان کے حالات سے واقف ہو گا بلکہ ان حالات کی ان کو جزا بھی دے گا۔چنانچہ قرآن کریم میں ہمیشہ يَوْمَىِٕذٍ لَّخَبِيْرٌ ہی استعمال ہوا ہے يَوْمَىِٕذٍ لَّعَلِیْمٌ یا يَوْمَىِٕذٍ لَّبَصِیْرٌ استعمال نہیں ہوا۔اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ یہاں خبیر سے محض علم مراد نہیں بلکہ ان کو سزا دینا مراد ہے اور اِنَّ رَبَّهُمْ بِهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّخَبِيْرٌ کے معنے یہ ہیں کہ اس دن ان کا رب ان کی خوب خبر لے گا۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اس سورۃ کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ کے ذریعہ اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ہم ان کی خبر تو ضرور لیں گے مگر پہلے نہیں بلکہ حُصِّلَ مَا فِي الصُّدُوْرِ کے بعد۔جب تک ان کے چھپے ہوئے گند پوری طرح ظاہر نہیں ہو جائیں گے ہم ان کو سزا نہیں دیں گے۔یہ مجرموں کی سزا کے متعلق ایک ایسا اصل ہے جسے بہت سے لوگ اپنی ناواقفیت کی وجہ سے نظر انداز کر دیا کرتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کے فرستادہ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کرتے ہیں کہ اگر آپ سچے ہیں تو لوگوں پر مخالفت کے فوراً بعد عذاب کیوں نازل نہیں ہو جاتا۔اس شبہ کا اس آیت میں جواب موجود ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کو خطاب کرتے ہوئے اس جگہ اسی سوال کا جواب دیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر ہم ایسا کریں تو لوگوں کے دلوں میں کئی قسم کے شکوک وشبہات پیدا ہونے لگیں اور وہ یہ خیال کرنے لگ جائیں کہ یہ لوگ تو بڑے بزرگ اور نیک تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو کیوں ہلاک کر دیا۔اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوتا کہ کفار مکہ کو قتل کر دو کیونکہ ان کے دل گناہ اور ظلم کے ارادوں سے پُر ہیں تو لوگ کہتے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں نے کتنا بڑا ظلم کیا ہے۔یہ لوگ تو بڑے شریف اور نیکو کار تھے۔خدمت دین کے لئے انہوں نے اپنی زندگیوں کو وقف کیا ہو ا تھا ان کو مارنا کس طرح درست ہو سکتا تھا مگر اب جبکہ ان لوگوں کے گند پوری طرح ظاہر ہو چکے ہیں۔ان کا ظلم انتہا کو پہنچ چکا ہے ہر شریف انسان کہتا ہے کہ اگر ان لوگوں سے مسلمان نہ لڑتے تو کن سے لڑتے۔بچوں کو انہوں نے مارا، عورتوں کو انہوں نے مارا، مردوں کو انہوں نے مارا، غلاموں کو انہوں نے مارا اور اس قدر شرمنا ک مظالم ان پر توڑے کہ ان واقعات کو پڑھ کر بے اختیار آنکھوں میں آنسو ڈبڈبا آتے ہیں۔اس سے زیادہ بے حیائی اور کیا ہو گی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک لڑکی کو جن کی شادی بعثت سے پہلے کفار میں ہو چکی تھی محض توحید سے نقار رکھنے کی وجہ سے کفار مکہ نے طلاق دلوادی۔ایک دوسری لڑکی کے خاوند سے آپ نے اس کے قید ہونے کے بعد اقرار لیا کہ وہ آپ کی لڑکی کو مدینہ روانہ کر دے گا اس پر جب اس نے ان کو مکہ سے روانہ کیا اور اونٹ پر سوار ہونے پر کسی بدبخت نے ان کے کجاوے کی رسیاںکاٹ ڈالیں اور وہ نیچے گر گئیں وہ اس وقت حاملہ تھیں نتیجہ یہ ہوا کہ مدینہ