تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 129

آجائے تو تم حملہ نہ کرو اور اگر تم نے حملہ کرنا ہے تو ضروری ہے کہ تمہاری اذان کی آواز ان کے کانوں تک پہنچ جائے اور انہیں معلوم ہو جائے کہ مسلمان حملہ کرنے کے لئے آگئے ہیںسوتے دشمن پر حملہ نہیں کرنا۔پس فَالْمُوْرِيٰتِ قَدْحًا میں صحابہؓ کے اعلیٰ درجہ کے اخلاق کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ آج مکہ میںمسلمان مغلوب ہیںوہ قریش کے بڑے بڑے رئووسا کی نگاہ میں مقہور اور ذلیل ہیں۔دشمن اٹھتا ہے اور انہیں بے دریغ تکالیف دینا شروع کر دیتا ہے اسے کسی خُلق کی پروا نہیںوہ اپنا واحد مقصد یہ سمجھتا ہے کہ کسی طرح مسلمانوں کو دکھ دے خواہ اخلاق میں سے کوئی ایک خُلق بھی اس کے پاس نہ رہے۔مگر یاد رکھو ایک دن یہ بےکس اور کمزور نظر آنے والے لوگ بھی ترقی کرجائیں گے اور اونٹوں کی بجائے گھوڑوں پر سوار ہو کر اپنی جانیں خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کرنے کے لئے آئیں گے۔عربوں کے لئے گھوڑا عجیب چیز تھی صرف نجدیوں کے پاس گھوڑے ہوا کرتے تھے اور نجدیوں سے مکہ والے بڑے گھبراتے تھے مگر اللہ تعالیٰ پیشگوئی کرتا ہے کہ ایک دن آنے والا ہے جب مسلمان طاقتور ہو جائیں گے اور اپنے پاس کثرت سے گھوڑے رکھنے لگیں گے تم سمجھتے ہو کہ چونکہ مسلمان کمزور ہیں اس لئے جانیں دے رہے ہیں مگر یہ با لکل غلط ہے۔جب یہ طاقتور ہو جائیں گے،جب یہ گھڑ چڑھے سوار بن جائیں گے اس وقت بھی یہ اپنی جانیںقربان کرنا اپنے لئے انتہائی باعث فخر سمجھیں گے اور ان میں اس قدر جوش ہو گا کہ وہ اپنے گھوڑوں کو ایڑیاں مارتے اور انہیں منزل مقصود کی طرف دوڑاتے چلے جائیں گے۔مگر دوسری طرف ان کے اخلاق ایسے اعلیٰ درجہ کے ہوں گے کہ وہ کبھی غا فل دشمن پر حملہ نہیں کریں گے، کبھی رات کو حملہ نہیں کریں گے، کبھی اچانک حملہ نہیں کریں گے۔تمہاری حالت تو یہ ہے کہ تم اخلا ق کی پروا تک نہیں کرتے جب بھی کوئی مسلمان تمہارے قابو آجائے تم اسے مارنے پیٹنے لگ جاتے ہو مگر یہ اخلاق کو کسی حالت میں بھی نظر انداز نہیں کریں گے جب یہ طاقتور ہو جائیں گے، جب یہ گھڑ چڑھے سوار ہوجائیں گے تب بھی یہ فوراً حملہ نہیں کردیں گے بلکہ جب آئیں گے رات بھر انتظار کریں گے صبح کے وقت اگر تمہاری اذان کی آواز ان کے کانوں میں آئے گی تو یہ تم پر حملہ نہیں کریں گے اور اگر تمہاری اذان نہیں ہو گی تو اپنی اذان کی آواز تمہارے کانوں تک پہنچائیں گے تاکہ تم ہوشیار اور بیدار ہو جائو اور مقابلہ کے لئے تیار ہو کر باہر نکلو۔غرض اس آیت میں مسلمانوںکے نہایت اعلیٰ درجہ کے اخلاق کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔پھر صرف اخلاق کی طرف ہی نہیں بلکہ اس آیت میں مسلمانوں کی دلیری کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کیونکہ جو لوگ دشمن سے لڑتے ہیںوہ رات کو آگ بجھا دیا کرتے ہیںیہ نہیں کرتے کہ رات کو آگ روشن رکھیں اور دشمن کو