تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 116 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 116

ترتیب مضمون پارہ عَمَّ کی آخری سورتوں کی ترتیب یاد رکھنا چاہیے کہ پہلی چند سورتوں سے (سوائے آخری ایک دو سورتوں کے)یہ طریق چلا آرہا تھا کہ ایک ہی سورۃ میںرسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اولیٰ کا بھی ذکر کیا جاتا تھا اور بعثت ثانیہ کا بھی۔مگر اب باری باری ایک ایک سورۃ میں ایک ایک زمانہ کا ذکر آتا ہے چنانچہ سورۃ البینہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اولیٰ کا ذکر کیا گیا تھا اور سورۃ الزلزال میں آپؐکی بعثت ثانیہ کا ذکر کیا گیا۔یہ ایک عجیب فرق ہے جو ان آخری سورتوں میں پہلی سورتوں کے مقابل پر پیدا کر دیا گیا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ آخر میں سورتیں چھوٹی کر دی گئی ہیںتا کمزور حافظہ والے اور بچے بھی کچھ حصہ قرآن کریم کا آسانی سے یاد کر سکیں۔پہلے چونکہ لمبی سورتیں تھیںاس لئے ایک ہی سورۃ میںدونوں زمانوں کا ذکر کر دیا جاتا تھا اب سورتیں چھوٹی ہو گئی ہیںاس لئے یہ طریق اختیار کر لیا گیا ہے کہ ایک سورۃ میں بعثت اولیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے اور دوسری سورۃ میں بعثت ثانیہ کا ذکر کیا جاتا ہے اسی ترتیب کے ماتحت زیر تفسیر سورۃمیں اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کی ترقیات کا ذکر کیا ہے اگلی سورۃ میںپھر آپ کی بعثت ثانیہ کا ذکر کیا جائے گا اور کچھ سورتوں تک یہی ترتیب چلتی چلی جائے گی اس کے بعد یہ ترتیب ایک نیا چکر کھائے گی اور پھر اس میں کچھ تبدیلی پیدا ہو جائے گی۔بہرحال سورۃ الزلزال میں چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ثانیہ کا ذکر تھا۔سورۃ عادیات میں آنحضرتؐکی بعثت اولیٰ کا ذکر اس لئے سورۃ العادیات میںبعثت اولیٰ کا ذکر کیا گیا ہے۔بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۰۰۱ (میں ) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور)بار بار رحم کرنے والا ہے (شروع کر تا ہوں) وَ الْعٰدِيٰتِ ضَبْحًاۙ۰۰۲ (مجھے) قسم ہے جوش سے آوازیں نکالتے ہوئے دوڑنے والے گھوڑوں کی۔حلّ لُغات۔عٰدِيٰت عَادِیَات: عَادِیَۃٌ سے جمع ہے جو عَدَا سے اسم فاعل کا مونث کا صیغہ ہے اور عَدَا ( یَعْدُوْ عَدْوًا وَ عَدَوَانًا وَ تَعْدَاءً وَعَدًا) الرَّجُلُ وَغَیْـرُہٗ کے معنے ہوتے ہیں جَرٰی وَ رَکَضَ کوئی شخص تیزی کے ساتھ دوڑا۔اسی طرح( عَدْوًا وَ عُدْوَانًا) فُلَانًا عَنِ الْاَمْرِ کے معنے ہوتے ہیں صَـرَفَہٗ وَشَغَلَہٗ۔کسی کو