تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 115 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 115

سُوْرَۃُ الْعٰدِیٰتِ مَکِّیَّۃٌ سورۃ العادیات۔یہ مکی سورۃ ہے وَھِیَ اِحْدٰی عَشْـرَۃَ اٰیَۃً دُوْنَ الْبَسْمَلَۃِ وَ فِیْـھَا رُکُوْعٌ وَّاحِدٌ اور اس کی بسم ا للہ کے سوا گیارہ آیات ہیں اور ایک رکوع ہے سورۃ عادیات مکی سورۃ ہے ابن مسعودؓ، جابر، الحسن،عکرمہ اور عطاء کے نزدیک یہ سورۃ مکی ہے۔ابن عباسؓ، انسؓ، اور قتادہؓ کے نزدیک مدنی ہے (فتح البیان سورۃ العٰدِیٰتِ ابتدائیۃ)۔عبداللہ بن مسعودؓ چونکہ پرانے صحابی اور اَلسَّابِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ میں سے ہیںاس لئے ان کی روایت عینی شہادت ہونے کی وجہ سے باقیوں سے زیادہ قابل قبول ہے۔ابن عباس ؓ کی روایت کے (بوجہ اس کے کہ ابن عباسؓ مدینہ میں بالغ ہوئے ہیں مکی زندگی میں تو وہ دو تین سال کے تھے)صرف اتنے معنے سمجھے جائیں گے کہ انہوں نے مدینہ میں یہ سورۃ سنی۔مگر اس سے یہ مراد نہیں لی جا سکتی کہ یہ سورۃ مدینہ میں ہی نازل ہوئی ہے کیونکہ جو سورۃ مکہ میں نازل ہو وہ مدینہ میں بھی سنی جاسکتی ہے۔اسی طرح انسؓ (جو انصار میں سے تھے )کے قول کے بھی اتنے ہی معنے ہوں گے کہ انہوں نے یہ سورۃ مدینہ میں سنی ہے مگر جب عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہوںکہ یہ سورۃ مکی ہے تو بوجہ اس کے کہ وہ مکہ میں ایمان والوںمیں سے ابتدائی لوگوں میں سے تھے اس کے معنے یہ ہیں کہ انہوں نے اس سورۃ کو مکہ میں سنا پس یہ روایت ان کے اَلسَّابِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ میں سے ہونے کی وجہ سے دوسری روایتوںسے زیادہ مقدم اور اہم ہے مستشرقین نے بھی بالخصوص ویری نے تسلیم کیا ہے کہ یہ سورۃ مکی ہے۔(A Comprehensive Commentary on the Quran by Wherry vol۔4 P270) میں سمجھتا ہوں کہ ریورنڈویری کا خیال ادھر گیا ہی نہیںکہ اس کو مکی ثابت کرنے کے نتیجہ میںایک عظیم الشان پیشگوئی بن جائے گی۔اگر یہ خیا ل انہیںآجاتا تو وہ کبھی اسے مکی قرار نہ دیتے کیونکہ ریورنڈ ویری کے لئے تو یہ بڑی مصیبت ہے کہ کسی پیشگوئی اور پھر عظیم الشان پیشگوئی کا قرآن کریم سے ثبوت ملتا ہو۔اگر اس طرف ان کا ذہن جا تا تو وہ حسب عادت کہہ دیتے کہ گو اکثر رو ا یات اسے مکی قرار دیتی ہیںلیکن اس کا سٹائل مدنی ہے اس لئے روایتیں غلط ہیں۔یہ ہے مدنی۔