تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 109

عملی نظریہ میں ایک شخص نیک ہوتا ہے اورایک بد۔لیکن منطقی نظریہ کے ماتحت کوئی بڑے سے بڑا نیک بھی محض اعمال کی بنا پر نجات کا مستحق نہیں سمجھا جا سکتا کیونکہ اس نے جو کچھ کیا اﷲ تعالیٰ کی طاقتوں سے کام لے کر کیا ہے۔اس حدیث میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا ہے خالص منطقی نظریہ کے ماتحت فرمایا ہے عملی نظریہ کے ماتحت نہیں۔اسی طرح ابن ابی حاتم سعید بن جبیر سے اﷲ تعالیٰ کے اس قول کے متعلق کہ فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ۔وَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت کس واقعہ پر نازل ہوئی تھی۔میں نے کئی دفعہ بتایا ہے کہ روایات میں کسی آیت کا جو شان نزول بیان کیا جاتا ہے اس کے صرف اتنے معنے ہوتے ہیں کہ یہ واقعہ بھی فلاں آیت پر چسپاں ہوتا ہے۔یہ معنے نہیں ہوتے کہ اگر وہ واقعہ نہ ہوتا تو آیت کا نزول بھی نہ ہوتا۔بہر حال سعید بن جبیرؓ کہتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی کہ يُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّ يَتِيْمًا وَّ اَسِيْرًا (الدّھر:۹)وہ لوگ اس کی محبت پر مسکین اور یتیم اور اسیر کو کھانا کھلاتے ہیں تو اس وقت صحابہ ؓ یہ خیال کیا کرتے تھے کہ ہمیں اﷲ تعالیٰ کی راہ میں تھوڑی سے چیز دینے پر کیا اجر مل سکتا ہے اجر تو اسی خیر پر ملے گا جو بہت بڑی ہو گی۔ضمناً میں یہ بھی بیان کر دینا چاہتا ہوں کہ يُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّ يَتِيْمًا وَّ اَسِيْرًا کے کئی معنے ہو سکتے ہیں۔عَلٰى حُبِّهٖ کے یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ عَلٰی حُبِّ الطَّعَامِ یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ عَلٰی حُبِّ اِطْعَامِ الطَّعَامِ۔اور یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ عَلیٰ حُبِّ اللہِ یعنی اس آیت میں تین درجے بیان کئے گئے ہیں اور بتاتا گیا ہے کہ مومن مسکین، یتیم اور اسیر کو کھانا کھلاتے ہیں۔عَلٰی حُبِّ الطَّعَامِ با وجود ما ل کی محبت یا طعام کی محبت کے یعنی باوجود اس کے کہ انہیں خود کھانے کی ضرورت ہوتی ہے پھر بھی وہ غرباء و مساکین کو اپنے آپ پر ترجیح دیتے اور اپنی ضروریات کو پسِ پشت ڈال کر ان کو کھانا کھلانا مقدم سمجھتے ہیں۔دوسرے معنے اس کے یہ ہیں کہ وہ کھانا کھلاتے ہیں عَلٰی حُبِّ اِطْعَامِ الطَّعَامِ جبکہ انہیں کھانا کھلانے سے محبت ہوتی ہے یعنی ان کی طبیعت میں صدقہ و خیرات دینا اس قدر گہرے طور پر داخل ہوچکا ہوتا ہے کہ انہیں اس وقت تک چین اور آرام ہی نہیں آتا جب تک وہ دوسروں کو کھانا نہ کھلا لیں۔تیسرے معنے اس کے یہ ہیں کہ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّ اللہِ وہ محض اللہ تعالیٰ کی محبت کے لئے کھانا کھلاتے ہیں۔ان کی یہ غرض نہیں ہوتی کہ لوگ ان کی تعریف کریں یا جن کو کھانا کھلایا گیا ہے ان سے کوئی فائدہ حاصل کریں یا انہیں کوئی ثواب ملے بلکہ وہ محض اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کو مدّ ِنظر رکھتے ہیں۔اس آیت میں صدقہ کے