تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 108
اسی طرح ابن ابی حاتم ابی سعید الخدری سے روایت کرتے ہیں کہ قَا لَ لَمَّا اُنْزِ لَتْ فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ۔وَ مَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللہِ اِنِّیْ لَرَاءٍ عَـمَلِیْ قَالَ نَعَمْ۔یعنی ابو سعید خدری کہتے ہیںکہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ مَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ۔وَ مَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ۔تو میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اﷲکیا میں اپنے ہر عمل کا نتیجہ دیکھوں گا ؟ آپ نے فرمایا ہاں۔قُلْتُ تِلْکَ الْکِبَارُ الْکِبَارُ میں نے کہا بڑے بڑے عمل بھی نظر آئیں گے؟ قالَ نَعَمْ فرمایا ہاں قُلْتُ تِلْکَ الصِّغَارُ الصِّغَارُ۔میں نے کہا چھوٹے چھوٹے عمل بھی نظر آئیں گے؟قَا لَ نَعَمْ۔آپ نے فرمایا ہاں۔قُلْتُ وَاثْکُلَ اُمّیْ۔میں نے کہا میری ماں مجھ کو روئے پھر تو میں مرا۔قَالَ اَ۔بْشِـرْ یَا اَبَا سَعِیْدٍ فَاِنَّ الْـحَسَنَۃَ بِعَشْـرِ اَمَثَالِہَا یَعْنِی اِلٰی سَبْعِ مِائَۃِ ضِعْفٍ وَّیُضْعِفُ اللہُ لِمَنْ یَّشَآءُ۔آپ نے فرمایا اے ابو سعید یہ آیت گھبراہٹ پیدا کرنے والی نہیں یہ تو نیکی اور بدی کی جزا کے متعلق اﷲ تعالیٰ کے قانون کو بیان کرتی ہے۔کافر بے شک گھبرا سکتا ہے لیکن مومن کے لئے گھبرا نے کی کوئی وجہ نہیں۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ہر نیکی کا دس گنے اجر ملے گا۔پس یہ جو اﷲ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ جو شخص نیکی کا ایک ذرہ بھی کرے گا وہ اسے دیکھے گا۔اس میں خیر دیکھنے سے مراد یہ ہے کہ جس شخص کی ایک نیکی ہوگی اسے دس گنا بڑا کر کے دکھایا جائے گا یعنی جو شخص کوئی ایک نیکی بجا لائے گا خدا تعالیٰ کے حضور اس کی دس نیکیاں لکھی جائیں گی اور پھر ان دس نیکیوں کو سات گنا کیا جائے گا۔گویا ایک نیکی کا اجر ستر گنے تک پہنچا دیا جائے گا اور اﷲ تعالیٰ جسے چاہے گا اس سے بھی زیادہ بدلہ دے گا۔وَالسَّیِّئَۃُ بِـمِثْلِھَا اَوْیَغْفِرُ اللہُ۔لیکن اگر کسی نے کوئی بدی کی ہوگی تو اس کا بدلہ اسے اتنا ہی ملے گا جتنا اس سے قصور سر زد ہوا ہوگا یا اﷲ تعالیٰ اسے معاف کر دے گا۔یعنی نیکی کے متعلق اﷲ تعالیٰ کا جو قاعدہ ہے وہ بدی کے متعلق نہیں۔پس مومن کے لئے گھبراہٹ کا کوئی مقام نہیں ہاں اگر کافر گھبرائے تو وہ اس کا سزا وار ہے۔پھر آپ نے فرمایا وَلَنْ یَنْجُوَ اَحَدٌ مِّنْکُمْ بِعَمَلِہِ تم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں جو اپنے عمل کے زور سے نجات حاصل کر سکے۔نجات کا موجب عمل نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا فضل ہوتا ہے۔قُلْتُ وَلَا اَنْتَ یَا رَسُوْلَ اللہِ۔میں نے کہا یا رسول اﷲ کیا آپ بھی اپنے عمل سے نجات نہیں پائیں گے؟ قَالَ وَلَا اَنَا اِلَّا اَنْ یَّتَغَمَّدَنِیَ اللہُ مِنْہُ بِرَحْـمَۃٍ (تفسیر الدر المنثور سورۃ الزلزال زیر آیت اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا)۔آپ نے فرمایا نہیں میں بھی اپنے عمل سے نجات نہیں پاسکتا میری مغفرت بھی اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ اﷲتعالیٰ اپنے فضل سے مجھے ڈھانپ لے۔درحقیقت اگر ہم غور کریں تو بات وہی ہے جو غالب نے کہی کہ جان دی دی ہوئی اسی کی تھی حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا اگر نبی نیکی کرتا ہے تو وہ بھی خدا تعالیٰ کی دی ہوئی طاقتوں سے ہی کرتا ہے۔پس منطقی طور پر اگر دیکھا جائے تو نبی کے ہاتھ میں بھی سوائے فضل کے اور کچھ نہیں ہوتا کیونکہ اگر اس نے نماز پڑھی ہے یا روزہ رکھا ہے یا حج کیا ہے یا صدقہ و خیرات میں حصہ لیا ہے یا اور نیکیاں کی ہیں تو وہ سب کی سب خدا تعالیٰ کی عطا کردہ طاقتوں سے کی ہیں اس لئے خالص منطقی نظریہ سے اگر دیکھا جائے تو نبی کی نجات بھی خدا تعالیٰ کے فضل کے بغیر نہیں ہو سکتی۔بے شک