تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 104
لیا۔اس کے بعد عمر ؓ کو ابو بکر ؓ کا مقام بھی نہ ملا پس عمرؓ نے بھی اپنے شر کو دیکھ لیا اسی طرح ہر مومن جو جنت میں گیا جب اسے ابو بکر ؓ اور عمر ؓ کا مقام نہ ملا تو اس نے بھی اپنا شر دیکھ لیا۔کیونکہ جس قدر کسی کے اعمال میں شر کا دخل ہوتا ہے اسی قدر اس کے اعمال خیر میں کٹوتی ہو جاتی ہے اور یہی شر کو دیکھنے کا مفہوم ہے۔عیسائی لوگ بڑی ہنسی اڑا یا کرتے ہیں کہ اسلام کا خدابہی کھاتے والا خدا ہے حالانکہ سچی بات یہ ہے کہ اس کے بغیر امن قائم ہی نہیں ہو سکتا۔خود عیسائیوں سے اگر پوچھا جائے کہ جس مقام پر تم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سمجھتے ہو کیا اسی مقام پرقیامت کے دن تمام مومن ہوں گے تو یقیناً وہ یہی کہیں گے کہ اﷲ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اور مقام پر رکھے گا اور مومنوں کو اور مقام پر۔اور جب خود ان کا یہ اعتقاد ہے تو وہ اسلام پر کس منہ سے یہ اعتراض کر سکتے ہیں کہ اسلام کا خدا بہی کھاتے والا خدا ہے۔اسی طرح فرماتا ہے مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَا١ۚ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا وَ هُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ (الانعام:۱۶۱) جو شخص نیک عمل کرے گا اسے اس کے عمل کی قیمت سے دس گنے زیادہ اجر ملے گا اور جو بد عمل کرے گا اسے اس کے عمل سے زیادہ کسی صورت میں بھی سزا نہیں ملے گی اور یقیناً ہماری طرف سے بدوں پر بھی کسی قسم کا ظلم روا نہیں رکھا جائے گا۔اس آیت نے اس خطرہ کو دور کر دیا جو مَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ کی وجہ سے ہر مومن کو محسوس ہوتا تھا کہ جب ایک چھوٹی سے چھوٹی بدی کا انجام بھی مجھے دیکھنا پڑے گا تو میری مغفرت کی کیا صورت ہو گی۔اﷲ تعالیٰ بتاتا ہے کہ ہمارا قانون یہ ہے کہ نیکی بڑھتی ہے اور اس کا دس گنے اجر دیا جاتا ہے لیکن بدی کے متعلق ہمارا یہ قانون ہے کہ فَلَا يُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا۔اس کا اس کے مطابق بدلہ دیا جاتا ہے یہ نہیں ہوتا کہ اسے دس بیس گنا بڑھا دیا جائے اس لئے اگر تمہیں یہ خطرہ ہے کہ تمہیں اپنے شر کا برا انجام نہ دیکھنا پڑے تو ہم تمہیں یہ علاج بتاتے ہیں کہ تم نیکی کا بیج بودو۔نیکی کا بیج ہمارے قانون کے مطابق بڑھے گا اور ترقی کرے گا یہاں تک کہ تمہاری ایک ایک خیر دس دس نیکیوں کی شکل اختیار کرے گی لیکن بدی کا بیج پنپ نہیں سکتا۔اس لئے نیکیوں کے غلبہ کی وجہ سے اﷲ تعالیٰ تمہاری مغفرت کے سامان پید افرما دے گا۔خیر اور شر کی مثال اچھے اور گندے بیج کی در حقیقت قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ خیر اور شر کی مثال ایک اچھے اور گندے بیج کی سی ہے۔اچھا بیج پھل پیدا کرتا ہے لیکن سڑا ہوا بیج کوئی پھل پیدا نہیں کرتا اگر تم زمین میں کوئی سڑا ہوا بیج بودو تو یہ نہیں ہوگا کہ اس کے نتیجہ میں ایک اور سڑا ہوا بیج پید اہو جائے۔لیکن اگر تم اچھا بیج بو دو تو ایک دانے سے کئی کئی سو دانے پیدا ہو جاتے ہیں۔اسی طرح بدی چونکہ سڑی ہوئی چیز ہے وہ اپنی ذات تک محدود