تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 94 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 94

تَلَھَّبَتْ۔آگ بھڑک اٹھی۔(اقرب) تفسیر۔کَذَّبَ میں اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ وہ صحیح اعتقاد نہیں رکھتا تھا اور تَوَلّٰی میں اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ وہ صحیح جذبات اور صحیح عمل سے کام نہیںلیتا تھا۔پس چونکہ فکری، جذباتی اور عملی تینوں خرابیاں اس میں پائی جاتی تھیںاس لئے اس کا انجام اچھا نہ ہوا۔کَذَّبَ کا لفظ اعتقادی خرابیوں کے لئے آیا ہے اور تَوَلّٰی کا لفظ جذبات اور اعمال کی خرابی پر دلالت کرتا ہے۔وَ سَيُجَنَّبُهَا الْاَتْقَىۙ۰۰۱۸ اور جو بڑا متقی ہوگا وہ ضرور اس سے دور رکھا جائے گا۔تفسیر۔وَ سَيُجَنَّبُهَا الْاَتْقَىسے یہ مراد نہیںکہ صرف ایسا شخص ہی دوزخ کی آگ سے بچایا جائے گا جو بہت متقی ہو۔معمولی درجہ کا مومن نہیں بچایا جائے گا۔کیونکہ یہاں تقویٰ کا تقویٰ سے مقابلہ نہیں بلکہ تقویٰ اور کفر کا مقابلہ ہے۔پس اس آیت کے یہ معنے نہیں کہ متقیوں میںسے زیادہ نیک بچایا جائے گا بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ تم بھی اپنے متعلق کہتے ہو کہ ہم میں تقویٰ پایا جاتا ہے اور مومن بھی اپنے متعلق کہتے ہیں کہ ہم میں تقویٰ پایا جاتا ہے اب ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ ان کا تقویٰ صحیح ہے لیکن تمہارا یہ دعویٰ صحیح نہیں کہ تم میں تقویٰ پایا جاتا ہے گویا یہاں مومنوں کے تقویٰ کا کفار کے خیالی تقویٰ سے مقابلہ کیا گیا ہے ورنہ یہ معنے نہیں کہ سب سے اعلیٰ متقی تو بہشت میں جائے گا اور ادنیٰ درجہ کے مومن اور متقی بہشت سے محروم رہیں گے۔ایسے معنے کرنے قرآن کریم کی ان آیات کے بالکل خلاف ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر یہ فرمایا ہے کہ فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ (الزلزال:۸) جو شخص ایک ذرہ کے برابر بھی کوئی نیکی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو ضائع نہیں کرتا۔پس جنت میں تو ہر مومن اور متقی جائے گا خواہ وہ تقویٰ کے اعلیٰ مقام پر ہو یا تقویٰ کے ادنیٰ مقام پر ہو اور جب قرآن کریم نے یہ مضمون بیان فرما دیا ہے تو اس آیت کے یہ معنے کس طرح ہو سکتے ہیںکہ صرف اعلیٰ درجہ کا متقی ہی دوزخ کی آگ سے بچایا جائے گا۔پس ظاہر ہے کہ یہاں مومنوں کے اتّقا کا آپس میں مقابلہ نہیں کیا گیا بلکہ کفار اور مسلمانوں کے تقویٰ کا باہمی مقابلہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اس وقت دو تقویٰ کے دعویدار ہیں کافر بھی کہتا ہے کہ میں متقی ہوں اورمومن بھی کہتا