تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 93 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 93

مال و اسباب تھا اور وہ اکیلا سفر کررہا تھا ایک چور نے اسے دیکھا تو اس نے ارادہ کیا کہ میں کسی طرح اس کا مال اڑائوں آخر سوچنے کے بعد اس نے یہ تجویز نکالی کہ ایک نیا اور اعلیٰ جوتا رستہ میں پھینک دیا اور خود ایک طرف چھپ گیا۔جب وہ شخص جوتے کے پاس پہنچا تو اسے بڑا پسند آیا اور اس نے اسے اٹھا لیا مگر پھر خیال آیا کہ میں نے ایک جوتا کیا کرنا ہے اگر دوسرا جوتا بھی ساتھ ہوتا تو کام بھی آتا صرف ایک جوتا کیا کام دے سکتا ہے چنانچہ وہ اسے وہیں چھوڑ کر آگے چل پڑا۔کچھ دور آگے جا کر چور نے دوسرا جوتا پھینکا ہوا تھا جب وہ وہاں پہنچا تو اسے اپنی بے وقوفی پر افسوس آیا او ر اس نے کہا کہ مجھ سے کیسی سخت غلطی ہوئی کہ میں وہ جوتا اسی جگہ چھوڑ آیا اگر میںچھوڑ کرنہ آتا تو اب مکمل جوتا بن جاتا۔اس خیال کے آنے پر اس نے اسباب وہیں رکھا اور جوتا لینے کے لئے واپس چل پڑا۔چور کو موقع مل گیا اور اس نے اسباب بھی اٹھا لیا اور جوتا بھی۔جب وہ واپس گیا تو دیکھا کہ وہاں جوتا نہیںکیونکہ وہ جوتا چور اٹھا کر لے آیا تھا۔اب یہ پھر خالی ہاتھ اپنے اسباب کے پاس آیا تو دیکھا کہ وہاںاسباب بھی نہیں اور جوتا بھی غائب ہے۔دنیا کے طلب کرنے والوں کی مثال یہی کافر کی حالت ہوتی ہے وہ آخرت کو چھوڑ کر دنیا کی طرف جاتا ہے لیکن آخرت تو اس کے ہاتھ سے نکل ہی چکی تھی دنیا بھی اس کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے کیونکہ دنیا خدا تعالیٰ کے پاس ہوتی ہے اور وہ اس راستہ پر چل رہا ہوتا ہے جو شیطان کی طرف جاتا ہے۔ادھر مومن کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ دنیا کو چھوڑ کرآخرت کی طرف جاتا ہے اور کہتا ہے مجھے دنیا کی ضرورت نہیں مجھے صرف آخرت کی ضرورت ہے۔مگر جب خد اتعالیٰ کے پاس پہنچتا ہے تو دیکھتا ہے کہ دنیا اس کے پیچھے پیچھے چلی آرہی تھی اور وہ آخرت کے ساتھ کھڑی ہے۔اور جب کافر دنیا کے پا س جاتا ہے تو وہاں کچھ بھی نہیں ہوتا نہ آخرت ہوتی ہے نہ دنیا ہوتی ہے پس فرماتا ہے وہ ہمارے پاس آئے تو آخرت کی تلاش میں تھے مگر جب وہ ہمارے پاس پہنچے تو انہوں نے اولیٰ کو بھی وہیں کھڑے پایا۔فَاَنْذَرْتُكُمْ۠ نَارًا تَلَظّٰىۚ۰۰۱۵لَا يَصْلٰىهَاۤ اِلَّا الْاَشْقَىۙ۰۰۱۶ پس (یاد رکھو کہ ) میں نے (تو ) تم کو ایک بھڑکتی ہوئی آگ سے ہوشیار کر دیا ہے۔اس میں سوائے کسی بڑے ہی بد بخت الَّذِيْ كَذَّبَ وَتَوَلّٰىؕ۰۰۱۷ کے کوئی داخل نہ ہوگا۔(ایسا بد بخت )جس نے (حق کو) جھٹلایا اور (سچ سے) منہ پھیر لیا۔حلّ لُغات۔تَلَظّٰی تَلَظّٰی اصل میں تَتَلَظّٰی ہے مگر تاء گر گئی ہے اور تَلَظَّتِ النّٰارُ کے معنے ہیں