تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 89

میں کوئی ایسا کام نہ کر بیٹھوں جس سے دنیا کی علمی یا عملی یا سیاسی یا عائلی حالت کو کوئی نقصان پہنچ جائے اور میں ثواب کی بجائے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا مورد بن جائوں۔وَ صَدَّقَ بِالْحُسْنٰى میں یہ بتایا کہ وہ صرف اسی پر اکتفاء نہیں کرتا بلکہ وہ افکار کی درستی میں بھی لگا رہتا ہے۔صحیح عقائد اختیار کرنے کی جدوجہد کرتاہے اور کوشش کرتا ہے کہ بہتر سے بہتر عقیدہ کی تصدیق کرے۔گویا صَدَّقَ بِالْحُسْنٰى کہہ کر یہ بتایا کہ وہ علم کی زیادتی کی کوشش کرتا رہتا ہے حُسْنٰی کے معنے صرف اچھی چیز کے نہیں بلکہ نہایت اعلیٰ درجہ کی چیز کے ہیں اور معنے یہ ہیں کہ وہ احسن سے احسن چیز کی تصدیق کرتا ہے یعنی اپنے علم کو کمال تک پہنچا دیتا ہے۔یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو ترتیب اوپر بتائی گئی ہے اس میں علم کو محرک جذبات بتایا گیا ہے اور جذبات کو محرک عمل قرار دیا گیا ہے مگر یہاں عمل پہلے ہے جذبات کا ذکر بعد میں ہے اور فکر کا اُس کے بعد میں۔گویا ترتیب بالکل الٹ ہے اس کی کیا وجہ ہے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اس جگہ ترتیب اللہ تعالیٰ نے درجہ کی بلندی کے اظہار کے لئے الٹ دی ہے چونکہ یہاں قومی مقابلے کا ذکر تھا جس میںعمل نمایا ں نظر آتا ہے اس لئے اسے پہلے،اُس کے محرک کو اُس کے بعد اور اُس کے محرک کو اس کے بعد رکھا گیا ہے ورنہ پیدائش کے لحاظ سے علم پہلے ہے جذبات دوسرے درجہ پر اور عمل تیسرے درجہ پر۔لیکن قومی مقابلہ میں جذبات اور علم دونوں چھپے ہوئے ہوتے ہیں۔صرف عمل ہی ایک ایسی چیز ہے جو دوسروں کے سامنے آتی ہے۔یہاں چونکہ کفار اور مسلمانوں کا مقابلہ کیا گیا ہے اور انہیں بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں کے مقابلہ میں تمہارا اپنی کامیابی کے متعلق ادّعا بالکل لغو ہے۔جو خوبیاں مسلمانوں میںپائی جاتی ہیں وہ تم میں موجود ہی نہیں اس لئے یہ لازمی بات ہے کہ مسلمان کامیاب ہوں اور تم ان کے مقابلہ میںشکست کھائواس لئے یہاں عمل کا پہلے ذکر کیا گیا ہے۔اگر جذبات اور افکار کو پہلے پیش کیا جاتا تو وہ ان کی اہمیت کو تسلیم نہیں کر سکتے تھے مثلاً اگر یہ کہا جاتا کہ صحابہؓ کا علم تمہارے علم سے بہتر ہے تو وہ کہتے کہ یہ بالکل غلط ہے ہمارا علم ان سے ہزار درجہ بہتر ہے لیکن جب یہ کہا جاتا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو غریبوں کی خدمت کرتے ہیں اور تم وہ ہو جو غریبوں کے لئے ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کرتے تو اس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیںتھا پس چونکہ یہاں کفر کا مقابلہ تھا اس لئے اس مقابلہ کی اہمیت کے لحاظ سے عمل کا پہلے ذکر کیا گیا ہے ورنہ جہاں تک محرکات کا سوال ہے علم پہلے ہے جذبات بعدمیں اور عمل اس کے بعد ہے۔مگر جہاں تک بُرے اور بھلے کے مقابلہ کا سوال ہے سب سے پہلے لوگوں کے سامنے عمل آتا ہے اور یہی وہ چیز