تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 85

نسائیت کاملہ والی قوم کی مثال اس شخص کی سی ہے جو (۱) اَعْطٰى (۲) وَ اتَّقٰى (۳) وَ صَدَّقَ بِالْحُسْنٰى کا مصداق ہو۔یہاں ایک نہایت ہی لطیف مضمون بیان کیا گی ہے اَعْطٰى کے معنے ہوتے ہیں دوسرے کو دیا۔اور اِتَّقٰی کے معنے ہوتے ہیں پرہیز گاری اختیار کی۔پس اَعْطٰى میں عمل کی درستی کی طرف اشارہ ہے اور اِتَّقٰی میںجذبات کی درستی اور ان کی صحت کا ذکر کیا گیا ہے۔اس کے بعد وَ صَدَّقَ بِالْحُسْنٰى میںاچھی باتوں کی تصدیق کا ذکر ہے اور تصدیق کا تعلق انسانی فکر کے ساتھ ہوتا ہے پس عمل اور جذبات کی درستی کے ساتھ فکر کی درستی کا ذکر بھی شامل کر دیا اور اس طرح بتایا کہ ترقی کرنے والی قوم کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اس کے عمل میں بھی صحت ہو، اس کے جذبات میں بھی صحت ہو اور اس کے افکار میںبھی صحت ہو۔اَعْطٰى میںعمل کی صحت کا ذکر ہے اِتَّقٰی میںجذبات کی صحت کا ذکر ہے اور صَدَّقَ بِالْحُسْنٰى میںافکار کی صحت کا ذکر ہے کیونکہ اَعْطٰى کے معنے ہیں وہ دیتا ہے یعنی اس کا عمل صحیح ہے۔اِتَّقٰی کے معنے ہیں وہ ہر بُری بات سے ڈرتا ہے یعنی اس کے جذبات صحیح ہیں اور صَدَّقَ بِالْحُسْنٰى کے معنے ہیںوہ اچھی باتوں کی تصدیق کرتا ہے یعنی اس کے افکار صحیح ہیں۔یہاں تین اصلاحوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ انسانی تکمیل کے لئے یہ تینوںاصلاحیں ضروری ہیں۔الفاظ مختصر ہیں مگر ان مختصر الفاظ میں علم النفس کا ایک نہایت اہم نکتہ بیان کیا گیا ہے اور بنی نوع انسان کے سامنے اس روشن حقیقت کو رکھا گیا ہے کہ عمل، جذبات اور فکر کی درستی سے ہی انسان پورے طور پر اچھا ہوتا ہے یعنی عمل صحیح، احساس صحیح اور فکر صحیح۔یہ تین کمالات جب تک کوئی قوم اپنے اندر پیدا نہیں کرلیتی وہ ترقی نہیںکر سکتی۔علمِ کامل افکار کی درستی کے ساتھ تعلق رکھتا ہے، احساسِ کامل جذبات کی درستی کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور عملِ کامل اعمال کی درستی کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔یہ تین چیزیں ہیں جن سے کامیابی ہوتی ہے اگر علمِ صحیح نہ ہو تو یہ لازمی بات ہے کہ اس کے جذبات بھی بگڑ جائیںگے اور ا س کا عمل بھی بگڑا ہوا ہوگا۔مثلاً پسا ہوا نمک اور میٹھا دونوں ہم شکل ہوتے ہیں اگر ہم کسی کو میٹھا دے دیں اور وہ اسے نمک سمجھ کر ہنڈیا میںڈال لے تو چونکہ اس کا علم صحیح نہیںہو گا نتیجہ بھی خراب ہی پیدا ہو گا۔یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ میٹھے کو نمک سمجھ کر ہنڈیا میں ڈال لے تو میٹھا نمک بن جائے۔غلط علم ہمیشہ غلط عمل اور غلط جذبات پیدا کیا کرتا ہے۔بسا اوقات عورتیں آنکھ میں ڈالنے والی دوا یا مالش کرنے کی دوا بچوں کو غلطی سے پلا دیتی ہیں اور وہ ہلاک ہو جاتے ہیں یہ نہیں ہوتا کہ ان کے غلط علم کا کوئی غلط نتیجہ پیدا نہ ہو۔پس غلط علم غلط عمل اور غلط جذبات پیدا کرتا ہے۔فرض کرو کہ کسی شخص کا بچہ گم ہو جائے اور باوجود تلاش کے وہ اپنے ماں باپ کو نہ ملے لیکن ہو زندہ، اور کسی نہ کسی طرح