تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 81 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 81

ایک بگاڑ ہے جو اس رنگ میں ظاہر ہو گیا۔خنثٰی کو بھی پیدائش قرار دینا ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی شخص کہے کہ خد اتعالیٰ آنکھیںدیتا ہے تو دوسرا جواب میں کہے کہ دنیا میں اندھے بھی تو ہوتے ہیں۔ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہ بات کیسی بےہودہ ہے اگر کوئی اندھا ہوا ہے تو اپنے ماں باپ کی کسی نادانی یا غفلت یا بیماری کے نتیجہ میںہوا ہے۔خدا تعالیٰ نے بہرحال ہر انسان کو آنکھوں والا بنایا ہے کسی کا اندھا پیدا ہونا ایک بگاڑ اور خرابی ہے نئی پیدائش نہیں ہے۔مجھے تو حیرت آتی ہے کہ ہمارے مفسرین نے اس بحث کو اٹھایا ہی کیوں کہ خدا تعالیٰ نے ذَکر اور اُنثٰی کا ہی کیوں ذکر کیا ہے خنثٰی کا ذکر کیوں نہیںکیا۔خنثٰی ہونا تو ایسا ہی ہے جیسے کسی کا ناک کٹا ہوا ہو یا کسی کی آنکھ ماری ہوئی ہو یا کسی کی ٹانگ کٹی ہوئی ہو۔ظاہر ہے کہ یہ سب انسانی پیدائش کے مختلف بگاڑ ہیں۔کسی کی آنکھیں نہیں ہوتیں، کسی کے ہاتھ نہیں ہوتے، کسی کی زبان نہیں ہوتی، کسی کی انگلیاں کم و بیش ہوتی ہیں۔اگر ان میں سے ہر چیز کو پیدائش کی ایک نئی قسم قرار دے دیا جائے تو پھر تو ہزار ہا اس قسم کی پیدائشیں نکل آئیں گی۔دنیا میں ہر شخص کی خدا تعالیٰ نے دو ٹانگیں پیدا کی ہیں لیکن بعض دفعہ ماں باپ کی بے احتیاطی یا کسی رحمی نقص کی وجہ سے ایسا بچہ پید ا ہو جاتا ہے جس کی تین ٹانگیں ہوتی ہیں۔اسی طرح خدا تعالیٰ نے ہر ایک کو الگ الگ جسم عطا کیا ہے لیکن بعض دفعہ اس قسم کے جڑے ہوئے بچے پیدا ہو جاتے ہیں جن کو اپریشن کے ذریعہ ایک دوسرے سے الگ کرنا پڑتا ہے اور بعض دفعہ تو اپریشن کے ذریعہ بھی ان کو الگ نہیںکیا جاسکتا بظاہر دو دھڑ آپس میں ملے ہوئے ہوتے ہیں لیکن دونوں کا جگر ایک ہوتا ہے یا دل ایک ہوتا ہے یا معدہ ایک ہوتا ہے یا تلی ایک ہوتی ہے اور وہ ساری عمر اسی طرح جڑے جڑے گزار دیتے ہیں۔پس خالی خنثٰی کا ذکر ہی نہیں پھر تو انہیں اس قسم کے تمام بگاڑ پیش کرنے چاہیے تھے اور کہنا چاہیے تھا کہ ایک پیدائش وہ ہوتی ہے جس میں دو بچے آپس میں بالکل جڑے ہوئے ہوتے اور پھر ان کو الگ الگ کرنا پڑتا ہے۔ایک پیدائش وہ ہوتی ہے جس میں دونوں کا ایک ہی جگر، ایک ہی قلب، ایک ہی پھیپھڑا اور ایک ہی معدہ ہوتاہے اور انہیں جدا نہیں کیا جا سکتا۔ایک پیدائش وہ ہوتی ہے جس میں بچہ تو ہوتا ہے مگر اس کی آنکھیں نہیں ہوتیں۔ایک پیدائش وہ ہوتی ہے جس میں دو کی بجائے تین ٹانگیں بن جاتی ہیں حالانکہ یہ ساری چیزیں وہ ہیں جو پیدائش کی بگڑی ہوئی صورتیں ہیں ان کو پیش کر کے قرآن مجید پر یہ اعتراض کرنا کہ اس نے صرف ذَکر اور اُنثٰی کا نام لیا ہے خنثٰی کا نام نہیں لیا معترضین کی نادانی اور حماقت کا ثبوت ہے اور مفسرین کو چاہیے تھا کہ بجائے اس کے کہ اس کا جواب دینے کی کوشش کرتے کہتے کہ یہ اعتراض کسی احمق کی زبان سے نکلا ہے دنیا میں دو ہی پیدائشیں ہوتی ہیں ایک پیدائش وہ ہوتی ہے جس میں ذکرانیت ہوتی ہے اور ایک پیدائش وہ ہوتی ہے جس میں نسوانیت ہوتی ہے یہ دونوں وجود آپس میں ملتے ہیںتب ایک تیسرا وجود پیدا ہوتا ہے اس کے بغیر نہیں۔