تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 576 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 576

اللہ تعالیٰ یہ بیان فرماتا ہے کہ وہ جہنم کی آگ میں داخل کئے جائیں گے اور اُس میں رہتے چلے جائیں گے پھر فرماتا ہے اُولٰٓىِٕكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِيَّةِ یہی وہ لوگ ہیں جو تمام مخلوق میں سے بد ترین ہیں۔اس کے مقابل میں مومنوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے اُولٰٓىِٕكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ وہ لوگ تمام مخلوق میں سے بہتر ہیں۔شر اور خیر کے الفاظ ایسے ہیں جو ہیں تو اِسم تفضیل مگر کثرتِ استعمال کی وجہ سے اُن کا ہمزہ اُڑگیا ہے اس لئے اشر اور اخیر کی شکل میں استعمال نہیں ہوتے۔شَرُّ الْبَرِيَّةِ اور خَيْرُ الْبَرِيَّةِ کا مطلب شَرُّ الْبَرِيَّةِ کے معنے ہیں بنی نوع انسان میں سب سے بد تر یعنی یہ لوگ صرف بُرے نہیں بلکہ تمام مخلوق میںسے بد ترین ہیں اور خَيْرُ الْبَرِيَّةِ کے یہ معنے ہیں کہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کئے وہ تمام مخلوق میںسے بہترین ہیں۔گویا کفار سب سے بُرے ہیں اور مومن سب سے اچھے ہیں یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اہل کتاب اور مشرکین کن دوسرے لوگوں سے بُرے ہیں۔جبکہ اہل کتاب اور مشرکین کے علاوہ غیر مسلم دنیا میں اور کوئی قوم ہی نہیں؟ میں بتا چکا ہوں کہ قرآن کریم میں جب بھی اہل کتاب اور مشرکین کا ذکر کیا جائے تو اُس سے مراد تمام غیر مسلم دنیا ہوتی ہے کیونکہ غیر مسلم دو حلقوں میں ہی تقسیم کئے جا سکتے ہیں یا وہ اہل کتاب ہوںگے یا وہ مشرک ہوں گے۔پس جب کہ دنیا میں صرف دو ہی گروہ پائے جاتے ہیں۔اہل کتاب اور مشرک۔تو سوال یہ ہے کہ اہل کتاب اور مشرک بُرے کن سے ہوئے۔اسی طرح جب مومنوں کے سوا دنیا میں اور کوئی ایماندار جماعت ہی نہیں تو وہ اچھے کن سے ہوئے؟ بے شک ایک زمانہ ایسا گذرا ہے جب الگ الگ قوموں کی طرف الگ الگ انبیاء مبعوث ہوا کرتے تھے اور ہر قوم صرف اپنے نبی پر ایمان لانے کی پابند تھی اُسے یہ ضرورت نہیں تھی کہ وہ دوسری قوم کے نبی پر بھی ایمان لائے اُس وقت اگر یہ کہا جاتا کہ مومن تمام مخلوق میں سے بہترین ہیں تو خیال کیا جا سکتا تھا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ زرتشتی مومنوں سے اچھے ہیں یا کرشنی مومنوں سے اچھے ہیں یا موسوی مومنوں سے اچھے ہیں مگر جب مومنوں کا ایک ہی گروہ ہے تو وہ اچھے کس سے ہوئے۔اسی طرح جب اہل کتاب اور مشرکین کے سوا اور کوئی کافر ہی نہیں تو وہ بُرے کس سے ہوئے؟ یہ ایک بہت بڑا سوال ہے جو اس مقام پر پیدا ہوتا ہے کہ جب کافروں کے سوا اور کوئی کافر ہی نہیں تو وہ بُرے کس سے ہوئے اور جب مومنوں کے سوا اور کوئی مومن ہی نہیں تو وہ اچھے کس سے ہوئے؟ درحقیقت ان آیات میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کا پہلے انبیاء کی اُمتوں سے مقابلہ کیا گیا ہے اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کا مقابلہ پہلے انبیاء کے دشمنوں سے کیا گیا ہے اور اسی بناء