تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 572 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 572

آنکھیں اندر دھنسی ہوئی ہیں، کپڑوں کا بُرا حال ہے اور ضعف اُس کے جسم سے ظاہر ہے۔وہ یہ حالت دیکھ کر لازماً پوچھے گا کہ میاں! تمہارا کیا حال ہے، تم اتنے خستہ حال کیوں نظر آ رہے ہو؟ اس کے جواب میں یا تو وہ کہے گا کہ میں بیمار ہوں علاج کے لئے میرے پاس کوئی پیسہ نہیں اور یا کہے گا کہ بیمار تو نہیں مگر کھانے پینے کا میرے پاس کوئی سامان نہیں۔اس پر دوسرا شخص اُسے کہہ سکتا ہے کہ تم جوان آدمی ہو کماتے کیوں نہیں؟ وہ کہے گا میں کیا کروں نجاری کا کام مجھے آتا ہے مگر نجاری کے آلات وغیرہ خریدنے کی مجھ میں استطاعت نہیں یا معماری جانتا ہوں یا کپڑا بُننا جانتا ہوں یا لوہارے کا کام جانتا ہوں مگر سامانوں سے تہیدست ہونے کی وجہ سے بے کار بیٹھاہوں۔اس پر اُسے فکر پیدا ہو گا کہ میرا فرض ہے میں اِس کی مدد کروں اور اِسی طرح قوم کے جو دوسرے غرباء ہیں اُن کی تکالیف دُور کرنے میں حصہ لوں تاکہ یہ بھی باعزت زندگی بسر کر سکیں۔پس حقیقت یہ ہے کہ ایتائِ زکوٰۃ کی تحریک اقامتِ صلوٰۃ سے ہی ہوتی ہے اور اسلام نے پانچ وقت نماز باجماعت کی ادائیگی کا حکم دے کر ایک ایسا اعلیٰ درجے کا راستہ کھول دیا ہے کہ اگر اس حکم پر عمل کیا جائے تو قوم کے حالات سے نہایت آسانی کے ساتھ واقفیت ہو سکتی ہے۔بھلا ایک انگریز لارڈ کو اپنی قوم کے حالات کی کیا واقفیت ہو سکتی ہے۔وہ گھر میں رہتا ہے تو وردیاں پہنے ہوئے نوکر اُس کی خدمت کے لئے موجود ہوتے ہیں جو اُس کے دسترخوان سے اپنا پیٹ ضرورت سے زیادہ بھر کر موٹے ہو رہے ہوتے ہیں۔کلب میں جاتا ہے تو اُس کی سوسائٹی کے لوگ اُس کے دائیں بائیں ہوتے ہیں۔اُسے کچھ علم نہیں ہو سکتا کہ غرباء پر کیا کچھ گذر رہی ہے۔لیکن ایک مسلمان جو پانچ وقت مسجد میں باجماعت نماز ادا کرتا ہے اور ہر روز پانچ دفعہ لوگوں کی شکلیں دیکھتا ہے اُسے بڑی آسانی سے پتہ لگتا رہتا ہے کہ اُس کی قوم کا کیا حال ہے اور اُسے قومی ترقی کے لئے کن امور کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔ذٰلِكَ دِيْنُ الْقَيِّمَةِ کا مفہوم وَ ذٰلِكَ دِيْنُ الْقَيِّمَةِ۔ذٰلِكَ دِيْنُ الْقَيِّمَةِ کے یہ معنے ہیں کہ ’’یہ ہے قائم رہنے والی قوم کا دین۔‘‘ یہاں مضاف حذف کر دیا گیا ہے اور مطلب یہ ہے کہ ذٰلِكَ دِيْنُ الْمِلَّۃِ الْقَيِّمَةِ۔یعنی دنیا میں جو اُمّت قائم رہنا چاہے اُسے ایسا ہی طریق اختیار کرنا ضروری ہے۔اس جگہ دین کے معنے طریق کے ہیں یا حال کے ہیں یا شان کے ہیں اور اس طرح اوپر کے بیان کردہ سب معنے اس میں آ جاتے ہیں یعنی دنیا میں قائم رہنے والی اُمت کا یہی طریق اور یہی حال ہوتا ہے اور چونکہ قَیِّمَۃٌ کے معنے مُتَوَلِّیْ کے بھی ہیں اس لئے ان معنوں کے رُو سے اِس آیت کا یہ مطلب بھی ہے کہ جس قوم کو اﷲ تعالیٰ دنیا میں متولی بنائے اُسے ایسا ہی طریق اختیار کرنا چاہیے ورنہ وہ اپنے فرض کو پورا کرنے والی نہ ہو گی۔بہرحال اس آیت کے دو معنے ہوئے ایک یہ کہ قائم رہنے والی قوم کے یہ آثار