تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 53
گئی (اقرب) اور جب زَکَّاہُ اللہُ کہیں تو معنے ہوتے ہیں اَنْـمَاہُ۔اللہ نے اس کو بڑھایا اور اونچا کیا (تاج العروس)نیز زَکّٰی کے معنے ہیں طَھَّرَہٗ۔اس کو پاک کیا۔(اقرب) تفسیر۔قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا کے دو معنے فرماتا ہے اس الہام کے بعد جو شخص اس کی پیروی کر کے اپنے نفس کو ٹھیک راہ پر چلاتاہے وہ بامراد ہو جاتا ہے یعنی الہام فطرت جو مجمل الہام ہوتا ہے اس کی پیروی اور اطاعت کا یہاں ذکر کیا گیا ہے۔یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ نبی کاالہام تفصیلی ہوتا ہے لیکن فطرت کا الہام مجمل ہوتا ہے۔یہاں تفصیلی الہام کا ذکر نہیں بلکہ مجمل الہام کا ذکر ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فجور اور تقویٰ کا وہ مجمل علم جو انسان کو ملا تھا اور جس کے مطابق وہ سمجھتا تھا کہ دنیا میںکچھ بُری چیزیںہیںاور کچھ اچھی چیزیںہیں، مجھے بُری چیزوں سے بچنا چاہیے اور اچھی چیزوں کو اختیار کرنا چاہیے۔جو شخص اس مجمل علم کو صحیح طور پر استعمال کرتا ہے اور فطرت کی اس راہنمائی کے ماتحت اپنے نفس کو اونچا کرتا ہے وہ فلاح پا لیتا ہے یعنی اپنے خدا سے واصل ہو کر صاحب الہام ہو جاتا ہے۔ان معنوں کے لحا ظ سے قَدْ اَفْلَحَ میں وحیٔ حقیقی کے پانے کا ذکر ہے اور اَلْھَمَھَا میںوحیٔ مجمل کے نازل ہونے کا بیان ہے جو ہر فطرت ِانسانی پر نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اس حقیقت کی طرف بنی نوع انسان کو توجہ دلاتا ہے کہ جو شخص اس بات کو سمجھتے ہوئے کہ خدا تعالیٰ نے میرے اندر اعتدال پید ا کیا ہے غور و فکر سے کام لیتے ہوئے اعتدال کی راہوں پر چلتا ہے اور فجورکی وہ حِس جو اللہ تعالیٰ نے اس کی فطرت میںرکھی ہے اس سے کام لے کر وہ بُری باتوں سے بچتا ہے او ر تقویٰ کی حِس جو اس کے اندر پیدا کی گئی ہے اس سے کام لے کر وہ اچھی باتوں کو اختیار کرتا ہے اور اپنے نفس کو اس پیہم جدو جہد اور کوشش کے نتیجہ میںاونچا کر دیتا اور اخلاقی زندگی بسر کرتا ہے ایک دن آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا الہام اس پر نازل ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کا قرب اس کو حاصل ہو جاتاہے۔زَکّٰی کے معنے اونچاکرنے کے بھی ہوتے ہیں اور زَکّٰی کے معنے پاک کرنے کے بھی ہوتے ہیںاس جگہ نفس کو اونچا کرنے کے معنے چسپاں ہوتے ہیں کیونکہ ایسا شخص فجور اور تقویٰ کی حِس سے کام لے کر فطرت کے مقام سے بلند ہو کر اخلاقی زندگی میںداخل ہو جاتا ہے اور پھر اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ خود صاحب ِ الہام ہو جاتا ہے۔دوسرے معنے نفسِ کامل کے لحاظ سے اس آیت کے یہ ہیںکہ جب ہم نفسِ کامل کو تفاصیلِ فجو ر اور تفاصیلِ تقویٰ بتاتے ہیںاور دنیا کو ان تفاصیل کا علم ہو جاتا ہے تو قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا وہ انسان جو ان باتوںسے فائدہ اٹھاتا اور نفسِ کامل کی تعلیم پر چل کر تزکیہ نفس کرتاہے اسے فلاح حاصل ہو جاتی ہے اور وہ خدا تعالیٰ کے مقربین میںشامل ہو جاتاہے گویا نبی کی اطاعت اور اس کے احکام کی پیروی کر کے وہ وَ الْقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا کا قائم مقام ہو جاتا ہے اور اس تفصیلی الہام کا تابع بنتے ہوئے اپنے اپنے درجہ کے لحاظ سے نبی کا قمر بن جاتا ہے۔درحقیقت ہر مومن اپنے اپنے درجہ