تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 564 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 564

بالکل تباہ ہو جائے گی۔چنانچہ میں اسی لئے حج کے لئے آیا ہوں اب یہاں سے جانے کے بعد میں بھی اپنے نام کے ساتھ حاجی لکھ کر بورڈ لٹکا دوں گا اور ہمیں تجارت میں جو گھاٹا ہوا ہے وہ جاتا رہے گا۔اُس وقت اُسے تو میں نے کچھ نہ کہا مگر دل میں مجھے اُس کی حالت پر سخت افسوس آیا کہ کُجا اس کی غیرت کی یہ کیفیت تھی کہ وہ بار بار اپنے ہاتھ پر ہاتھ مار کر کہتا ہائے وہ جہاز بھی غرق نہیں ہو جاتا جس میں ایسا شخص سوار ہے اور کجا یہ حال ہے کہ وہ حج کرنے کے لئے آیا ہے مگر اُسے ذرا بھی یہ احساس نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر حج کرے بلکہ اُس کے مدنظر محض اتنی بات ہے کہ میں حاجی کہلائوں۔لوگ میری عزت کریں اور وہ دوکان پر کثرت کے ساتھ سودا خریدنے کے لئے آنے لگیں۔تو دنیا میں بہت لوگ ایسے ہیں جو زُہد و تعبد میں لوگوں کی خوشنودی اور اُن کی واہ وا حاصل کرنے کے لئے حصہ لیتے ہیں اللہ تعالیٰ کی محبت سے اُن کا دل بالکل خالی ہوتا ہے مثلاً عیسائیوں میں پادریوں کی بہت بڑی عزت سمجھی جاتی ہے اور جتنے یوروپین اُمراء خاندان ہیں وہ ایک ایک لڑکا ضرور چرچ کی خدمت میں لگا دیتے ہیں مگر اس لئے نہیں کہ اُن کے دل میں عیسائیت کی کوئی عظمت ہے یا وہ سمجھتے ہیں کہ پادری بن کر ہمارا لڑکا اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرے گا بلکہ صرف اس لئے ایسا کرتے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں اس کے بغیر ہمارے خاندانوں کا سیاسی لحاظ سے کوئی اثر قائم نہیں ہوسکتا۔یہ مسلمانوںکی بد قسمتی ہے کہ انہوں نے علماء کی عزت نہیں کی جس کی وجہ سے امراء کی توجہ علم دین کی طرف سے بالکل ہٹ گئی مگر یوروپین قومیں اپنے پادریوں کی بڑی عزت کرتی ہیں اس وجہ سے امراء کو ہمیشہ یہ خیال رہتا ہے کہ ہمیں سیاسی رنگ میں اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے ورنہ عوام میں ہمارے خلاف جوش پیدا ہو جائے گا اور وہ رسوخ جو ہمیں حاصل ہے جاتا رہے گا پس چونکہ زُہد و تعبد کے اعمال بساا وقات لوگ اس لئے بجا لاتے ہیں کہ اُن کو قوم میں عزت اور رسوخ حاصل ہو۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو یہ نصیحت فرمائی ہے کہ تم ریاء اور سمعت کے خیالات کو اپنے دل کے کسی گوشہ میں بھی داخل نہ ہونے دو اور جس قدر نیک اعمال بجا لائو ان کی تہ میں صرف یہی جذبہ کار فرما ہوکہ تمہیں اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو جائے مخلوق سے توجہ ہٹا کر صرف خالق پر اپنی نظر رکھو اور اپنے اعمال صالحہ کو اللہ تعالیٰ کے لئے وقف کر دو کہ وہی اعمال اُس کی درگاہ میں مقبول ہوتے ہیں جو اس کی رضا کے لئے کئے جائیں۔جن اعمال پر ریاء کا داغ لگ جاتا ہے وہ انسان کے منہ پر مارے جاتے ہیں اور ثواب کی بجائے اللہ تعالیٰ کے عذاب کا موجب بن جاتے ہیں۔مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ کے آٹھویں معنے (۸) آٹھویں مناسب معنے جو یہاں لگ سکتے ہیں عادت کے ہیں اِن معنوں کے رُو سے اس آیت کا یہ مفہوم ہو گا کہ تم اللہ تعالیٰ کے ایسے فرمانبردار بنو کہ تمہاری عادات بھی اللہ تعالیٰ