تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 52
طرف قولِ فصل نہ بھیجا ورنہ وہ قومیں تباہ ہو جاتیں کیونکہ ان میں اتنی قابلیت ہی نہ تھی کہ وہ اونچ نیچ کو سمجھ کر اس وسیع تعلیم پر عمل کر سکتیں۔یہ تعلیم ان کی طاقتوں کو ابھارنے والی نہیں بلکہ ان کو توڑنے والی ثابت ہوتی۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے ذہنی ارتقاء کو مدنظر رکھ کر صرف وقتی کامل تعلیم اتاری نہ کہ کُلّی کامل تعلیم۔ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کی مختلف چیزوں میں بھی خدا تعالیٰ نے کئی قسم کی حدبندیاں مقرر کی ہوئی ہیں۔مثلًا شیر کو اللہ تعالیٰ نے گوشت کھانے والا بنایا ہے۔وہ گھاس نہیں کھا سکتا۔لیکن گائے کو اللہ تعالیٰ نے گھاس کھانے والی بنایا ہے وہ گوشت نہیں کھا سکتی۔عقلمندی کا تقاضا یہی ہوتا ہے کہ انسان دوسرے سے وہی کام لے جس کی اس میں قابلیت پائی جاتی ہو کیسا احمق اور نادان وہ انسان ہو گا جو گائے کو گھاس اور شیر کو گوشت کھاتے دیکھے تو کہے یہ تو بڑا ظلم ہے کہ ایک کو گوشت کھلایا جائے اور دوسرے کو گھاس۔یا تو دونوں کو گوشت کھلانا چاہیے یا دونوں کو گھاس۔اگر چڑیا گھر میں کوئی شخص جائے اور وہ شیر کے سامنے گوشت اور گائے کے سامنے گھاس کو پڑا دیکھ کر کہنا شروع کر دے کہ یہ تو بڑا ظلم ہے تو کیا کوئی بھی معقول انسان اس کی تائید کرے گا۔ہر شخص کہے گا کہ اس میں نہ شیر کی رعایت ہے نہ گائے پر ظلم ہے۔گائے کے اندر گھاس کھانے کی ہی قابلیت ہے اور شیر کے اندر گوشت کھانے کی ہی قابلیت ہے۔اسی طرح روحانی تعلیم ہمیشہ انسانی قابلیتوں کے مطابق اترتی رہی ہے۔یہ کہنا کہ قولِ فصل پہلے ہی کیوں نازل نہ کر دیا گیا ایسی ہی بات ہے جیسے کہا جائے کہ بچے کو پہلے دن ہی روٹی کیوں نہیں دی جاتی دودھ کیوں پلایا جاتا ہے۔ظاہر ہے کہ اگر کوئی شخص بچے کو روٹی دے گا تو وہ بڑھے گا نہیں بلکہ مر جائے گا بچے کا فائدہ اسی میں ہے کہ اس کو دودھ پلایا جائے۔یا مثلاً ہڈیاں ہیں شیر کے سامنے رکھو تو وہ ان کو چبا جائے گا لیکن انسان کو دو تو اوّل تو وہ کھا ہی نہیں سکے گا اور اگر کوئی بڑی ہڈی کسی طرح نگل جائے گا تو اس کی انتڑیوں میں زخم پڑ جائیں گے اور آخر مرجائے گا۔پھر کئی جانور ہیں جو پتھر کھا جاتے ہیں۔بڑے چڑیا گھروں میں ایسے جانور موجود ہیں۔ان کے سامنے پتھر رکھو تو وہ فوراً ان کو کھا جاتے ہیں۔اب اگر اس نظارہ کو دیکھ کر کوئی شخص انسان کے سامنے پتھر رکھ دے اور کہے کہ تو اشرف المخلوق ہے پتھر کھا کر دکھا تو وہ احمق ہی ہو گا۔کیونکہ اگر انسان پتھر کھائے گا تو مر جائے گا یہی مضمون اللہ تعالیٰ نے قَدَّرَ فَهَدٰى میں بیان کیا ہے اور بتایا ہے کہ تم اس حقیقت کو ہمیشہ یاد رکھو کہ تعلیم ہمیشہ ماحول کے مطابق اترے گی۔اگر ماحول کے مطابق اللہ تعالیٰ کی طرف سے تعلیم نازل نہ ہو تو خواہ وہ کتنی ہی اعلیٰ ہو انسان کو ہلاک کرنے والی ہو گی اسے ترقی کی منازل کی طرف لے جانے والی نہیں ہو گی۔پس قولِ فصل کو اس وقت نازل کرنا پہلوں پر ظلم نہیں۔پہلوں کے لئے جو تعلیم مناسب تھی وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کر دی گئی۔جب انسان ارتقائی منازل