تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 554 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 554

مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھو کہ بادشاہت کے بعد بھی کبھی اپنے آپ کو بادشاہ نہیں سمجھا اور کسی کو بادشاہ نہیں کہنے دیا۔جس طرح اللہ تعالیٰ کا بندہ اپنے آپ کو غلبہ سے پہلے سمجھتے تھے اسی طرح غلبہ کے ملنے کے بعد بھی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا بندہ ہی سمجھتے رہے وہی نمازیں رہیں، وہی روزے رہے، وہی ذکر الٰہی رہا بلکہ اگر کوئی فرق پڑا تو یہی کہ فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ جب دنیوی جنگوں اور لڑائیوں میں کمی آئے تو خد تعالیٰ کی عبادت میں اور زیادہ بڑھ جائو۔اِسی طرح غلبہ ملنے سے پہلے جس طرح آپ اپنے آپ کو بندوںکا خادم سمجھتے رہے اِسی طرح غلبہ ملنے کے بعد بھی آپ اپنے آپ کو خادم سمجھتے رہے اور جوانی کی عمر میں مکہ میں جب آپ کے پاس کچھ نہ تھا تب بھی غریبوں، یتیموں اور مسکینوں کی مدد اپنے ہاتھ سے کرتے تھے اور جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی دولت عطا فرما دی۔یعنی شادی کے بعد حضرت خدیجہؓ نے اپنا سارا مال آپ کے سپرد کر دیا تو آپ نے یہ نہیں کیا کہ اُس مال کو اپنی ذات پر استعمال کرلیں۔آپ نے یہ نہیں سمجھا کہ میری بیوی نے یہ مال مجھے دیا ہے تو اب میں یہ مال اُس کے آرام اور آسائش کے لئے خرچ کروں بلکہ اس مال کو غریبوں اور مسکینوں پر خرچ کرناشروع کر دیا۔جب آپؐکو اللہ تعالیٰ نے حکومت عطا فرمائی اور عرب اور اُس کی تمام اقوام کو آپ کے تابع کر دیا اور عرب کاتمام ٹیکس اور جزیہ آپ کے ہاتھوں میں آنے لگا تب بھی آپ نے اُس سے کسی قسم کا فائدہ نہیں اُٹھایا اور وفات کے وقت جب کہ لوگ اپنے اہل و عیال کی نسبت لوگوں کو ہدایتیں دیتے ہیں آپ نے آخری وصیت اپنی قوم کو یہی فرمائی کہ میں تمہیں عورتوں اور کمزوروں سے نیک سلوک کے بارہ میں آخری نصیحت کرتا ہوں(ابن ماجہ کتاب النکاح باب حق المرأۃ علی الزَّوج) اور وفات کے وقت سخت کرب اور تکلیف کی حالت میں آپ بار بار فرماتے تھے کہ خدا یہودونصاریٰ پر لعنت کرے کہ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو عبادت گاہ بنا لیا(بخاری کتاب المغازی باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم ووفاتہ)۔یہ سخت الفاظ اتنے یہودونصاریٰ کی نسبت نہیں تھے جتنا اِن میں اس طرف اشار ہ تھا کہ اگر میری قوم نے بھی میری قبر کو عبادت گاہ بنایا تو صرف خدا تعالیٰ کی لعنت اُن پر نہیں پڑے گی بلکہ میری لعنت بھی اُس کے ساتھ شامل ہو گی۔غرض غلبہ کے وقت بھی آپ نے نہ خدا تعالیٰ کے حق کو تلف کیا اور نہ بندوں کے حقوق کو تلف ہونے دیا۔اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُـحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُـحَمَّدٍ وَّبَارکْ وَسَلِّمْ اِنَّکَ حَـمِیْدٌ مَّـجِیْدٌ۔آپؐکے صحابہؓ نے بھی اس تعلیم پر اعلیٰ سے اعلیٰ عمل کر کے دکھایا۔خلفاء اربعہ حقوق العباد کے ادا کرنے کی ایک بے نظیر مثال گذرے ہیں۔ایک طرف خدا تعالیٰ کو انہوں نے مضبوطی سے پکڑے رکھا اور دوسری طرف بندوں