تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 553 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 553

یہ معنے نہیں کہ دوسرے کسی کی اطاعت جائز نہیں بلکہ جس حد تک اور جس کی اطاعت کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اُس حد تک اور اُس شخص کی اطاعت کرنا۔اگر اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت ایسا کیاجائے تو خدا تعالیٰ ہی کی اطاعت کہلاتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے لئے اطاعت کو خالص کرنے کے معنے یہ ہیں کہ انسان جب خدا تعالیٰ کی اطاعت کرے تو بندوں کی خاطر نہ کرے اور جب بندوں کی اطاعت کرے تو خدا تعالیٰ کی خاطر کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ آپ انگریزوں کے مطیع تھے حالانکہ آپ جس حد تک بھی انگریزی حکومت کی اطاعت کرتے تھے اسلا م کی اور خدا تعالیٰ کی تعلیم کے ماتحت کرتے تھے اس لئے انگریز کی اطاعت میں آپ خدا تعالیٰ کی اطاعت کرتے تھے۔چونکہ اللہ تعالیٰ نے حاکمِ وقت کی اطاعت کا حکم دیا ہے یا اُس کے ملک سے نکل جانے کا۔اس لئے اگر آپ ایسا نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکلنے والے قرار پاتے۔مگر جو لوگ یہ سمجھتے ہوئے کہ انگریز کی اطاعت جائز نہیں پھر انگریزوں کے ملک میں رہتے ہیں اور اُن کے قانون کی پابندی کرتے ہیں اُن کا ایک ایک منٹ گناہ میں گذر رہا ہے۔کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہوئے کہ انگریز کی اطاعت جائز نہیں پھر انگریز کی اطاعت کرتے ہیں حالانکہ اگر اُن کا عقیدہ صحیح ہے تو انہیں انگریزوں کی حکومت سے فوراً باہر نکل جانا چاہیے تھا۔مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ کے دوسرے معنے کہ غلبہ اور استعلاء ملنے کے بعد اس کو اللہ تعالیٰ کے لئے وقف کر دیں (۲) دوسرے معنے دِیْن کے جو اس جگہ لگتے ہیں قہر اور غلبہ اور استعلاء کے ہیں اِن معنوں کے رُو سےآیت کا مفہوم یہ ہے کہ مخاطبین رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے صرف اتنا مطالبہ کیا گیا تھا کہ جب غلبہ اور استعلاء تم کو ملے تو اس غلبہ اور استعلاء کو اللہ تعالیٰ ہی کے لئے وقف کر دیا کرو کیونکہ غلبہ اور استعلاء اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے آتا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ١ٞ وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ١ؕ بِيَدِكَ الْخَيْرُ١ؕ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ( اٰل عـمران:۲۷) یعنی جب غلبہ اور استعلاء اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے تو اُسے اللہ تعالیٰ ہی کے لئے خرچ کرنا چاہیے نہ کہ اپنے نفس کی بڑائی اور تکبر اور ظلم اور دوسروں کو اپنی غلامی میں لانے کے لئے۔اِسی حکم کے نہ سمجھنے اور نہ ماننے کی وجہ سے تمام سیاسی نظام تباہ ہوتے ہیں۔لوگ غلبہ کے وقت خدا تعالیٰ کو بھول جاتے ہیں اور غلبہ دینے کی غرض کو بھول کر بندوں کو بھی بھول جاتے ہیں اور اُن پر ظلم کرنے لگ جاتے ہیں۔جب کبھی کوئی قوم دنیا پر غالب ہوئی اُس نے خدا تعالیٰ کو بھلا دیا اور اُس کے بندوں کے حقوق کو بھی جنہیں ادا کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے اُسے غلبہ دیا تھا بھلا دیا