تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 552
مانے نہ مانے مشرک بھی ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کاحصّہ لوگوںکو دیتا ہے۔اِسی نکتہ کو مدنظر رکھتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے منہ میں بھی ایک لقمہ اِیْمَانًا وَ اِحْتِسَابًا ڈالتا ہے تو وہ لقمہ ڈالنا خدا تعالیٰ کی کتاب میں اُس کے لئے صدقہ کے طور پر لکھا جاتا ہے (بخاری کتاب النفقات باب فضل النفقۃ علی الاھل) بیوی الگ خوش ہوگئی، اُس کی محبت کا جذبہ الگ پورا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ کے رجسٹر میں اُس کا نام نیک اعمال بجالانے والوں میں الگ لکھا گیا۔یہی اصل تمام دوسرے کاموں پر بھی چسپاں ہوتا ہے۔اسلام دین کو دنیا پر مقدّم کرنے کا حکم دیتا ہے خدا ہی کا ہو جانے کی تعلیم دیتا ہے لیکن اکثر لوگ دنیوی کام کرنے پر بھی مجبور ہوتے ہیں پھر یہ حکم کس طرح پورا ہو سکتا تھا؟ اُسی طریق سے جس کی طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُوپر کے حکم میں اشارہ فرمایا ہے۔یعنی اپنے دنیوی کاموں کو بھی خدا تعالیٰ کے منشاء کے مطابق اور اُس کی خوشنودی کے لئے کرے۔اِس طرح اس کا ہر کام عبادت بن جائے گا اور جبکہ وہ ظاہر میں دنیا کا کام کرتا ہوا نظر آئے گا اس کا ہر کام عبادت ہو جائے گا یہی نکتہ تصوف کی جان ہے اور تصوف کی بنیاد کلی طور پر اسی نکتہ پر کھڑی ہے اس پر عمل کر کے انسان روحانیت کی اعلیٰ منازل کو آسانی سے طے کرسکتا ہے اور لحظہ بہ لحظہ خدا تعالیٰ کے قرب میں ترقی کر سکتا ہے۔بندوں کی اطاعت خدا تعالیٰ کی خاطر کرنا (باء) دوسرا مفہوم اِن معنوں کے رو سے اس کا یہ ہے کہ بندوں کی اطاعت خدا تعالیٰ کے لئے کریں۔پہلا مفہوم تو یہ تھا کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت بندوں کی خاطر نہ کریںاور دوسرا مفہوم یہ بنے گا کہ بندوں کی اطاعت خدا تعالیٰ کے لئے کریں پہلے معنوں کے لحاظ سے اس آیت کا مفہوم یہ تھا کہ مُـخْلِصِیْنَ لِلہِ اِطَاعَۃَ اللہِ۔اور دوسرے پہلو کے لحاظ سے اس آیت کا یہ مفہوم ہو گا کہ مُـخْلِصِیْنَ لِلہِ اِطَاعَۃَ الْعِبَادِ۔یعنی اللہ تعالیٰ نے بندوں کی اطاعت ہر صورت میں نا جائز نہیں کی بلکہ بعض دفعہ خود حکم دیا ہے کہ اُن کی اطاعت کرو جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ(النساء:۶۰) اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اُس کے رسول کی اطاعت کرو اور اُولی الامر کی اطاعت کرو پس معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا رسول اور اولی الا مر کی اطاعت بھی ضروری قرار دی گئی ہے لیکن شرط یہ رکھی ہے کہ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ جب تم بندوں کی اطاعت کرو تو خدا کی وجہ سے کرو یعنی مومنوں کے لئے ضروری ہے کہ اُسی حد تک اور اُسی شخص یا اُسی قوم کی اطاعت کریں جس حد تک اور جس کی اطاعت کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام سے جب لوگوں نے ٹیکس کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا قیصر کی چیز قیصر کو دو اور خدا تعالیٰ کی چیز خدا تعالیٰ کو دو(مرقس باب۱۲ آیت ۱۷)۔اِس کا یہی مطلب تھا کہ خدا تعالیٰ کی خالص اطاعت کے