تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 551
حکم دیا گیا تھا کہ اوّل۔اطاعت اللہ تعالیٰ کی کریں ( کیونکہ دِیْن کے ایک معنے اطاعت کے بھی ہیں) دوسروں کی اطاعت کا اِس میں کوئی شائبہ نہ ہو۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی اطاعت جائز نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ کے پہلے معنے خدا تعالیٰ کی اطاعت خدا تعالیٰ کی خاطر کرنا (الف) خدا تعالیٰ کی اطاعت بندوں کی خاطر نہ کریں بلکہ خدا تعالیٰ کے لئے اپنی اطاعت کو خالص کر دیں یعنی وہ خدا تعالیٰ کی اطاعت خدا ہی کی خاطر کریں بندوں کی خاطر نہ کریں۔دُنیا میں بہت لوگ ایسے ہیں جن کی اطاعتِ الٰہی محض لوگوں کے ڈر سے ہوتی ہے۔وہ احکام الٰہی پر اس لئے عمل نہیں کرتے کہ خدا یوں فرماتا ہے بلکہ اس لئے اُن پر عمل کرتے ہیں کہ اُن کی قوم یا رسم و رواج اس کا مطالبہ کرتا ہے مثلاً عیسائی گرجے جاتا ہے اِس لئے نہیں کہ خدا نے حکم دیا ہے بلکہ اس لئے کہ اگروہ گرجے میں نہ جائے تو اُس کی قوم برا مناتی ہے یا اگر یہودی اپنی عبادت گاہ میں جاتا ہے یا ہندو مندر میں جاتا ہے یا مسلمان مسجد میں جاتا ہے تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اُس کا عبادت گاہ میں جانا یامندر میں جانا یا مسجد میں جانا اس لئے نہیں ہوتا ہے کہ خدا کا حکم ہے عبادت کرو بلکہ اس لئے ہوتا ہے کہ اُس کی قوم اُس سے یہ امید رکھتی ہے۔اِسی طرح بہت سے احکام پر انسان رواجاً عمل کرتا ہے یا اپنی نفسانی خواہش کے مطابق عمل کرتا ہے مثلاً خدا نے کہا ہے کمزور پر رحم کرو اور اپنے ساتھ تعاون کرنے والے کو نیک بد لہ دو۔یہ دونوں حکم ہر مذہب میں پائے جاتے ہیں اور ان دونوں حکموں کے ماتحت بچوں سے نیک سلوک اور بیویوں سے حُسن معاملت یا دوستوں کے ساتھ نیک معاملہ کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔مگر کتنے لوگ ہیں جو اس لئے اپنے دوست کے ساتھ نیک معاملہ کرتے ہیں یا بچوں کی تربیت کرتے ہیں۔یا عورتوں سے حسنِ معاملہ کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے یوں فرمایا ہے اکثر لوگ یا تو طبعی جذبات کے ماتحت ایسا کرتے ہیں یا دوسرے لوگوں کی نیک رائے حاصل کرنے کے لئے ایسا کرتے ہیں۔اسی طرح غریبوں کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا جو حکم دیا گیا ہے۔یا یتیموں اور بیوائوں کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا گیا ہے یہ ہر مذہب میں ہے مگر کتنے عیسائی یا یہودی یا ہندو یا آج کل کے مسلمان ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے ایسا کرتے ہیں اکثر ایسے ہی ہیں جو لوگوں میں نیک نامی حاصل کرنے کے لئے ایسا کرتے ہیں جب تک انسان اس مرض میں مبتلا ہوتا اور جتنا جتنا حصہ اس مرض میں مبتلا رہتا ہے اُس وقت تک اور اُسی حد تک اُس کا دین ناقص ہوتا ہے کیونکہ اُس کادل روز مرہ کے کاموں میں اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں بلکہ دوسرے لوگوں کی طرف جھکا رہتا ہے اور وہ حقیقی محبت جو انابت الی اللہ سے پیدا ہوتی ہے اُس کے دل میں پیدا نہیں ہوتی اور پھر وہ سمجھے نہ سمجھے،