تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 550 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 550

وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا کے معنے بعض نے یہ کئے ہیں کہ ان لوگوں کی کتب میں ہی حکم دیا گیا تھا مگر اس جگہ یہ معنے چسپاں نہیں ہوتے اِن الفاظ سے اس جگہ یہ مراد ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تعلیم پیش کی اُس میں سوائے اس کے کیا حکم تھا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور خالص اُسی کی اطاعت کرو اور اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ کی غلامی کو ترک کر دو۔کیا یہ حکم ایسا تھا کہ وُہ بُرا مناتے یا ایسا تھا کہ وہ اس پر خوش ہوتے اور دوڑتے ہوئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع ہو جاتے؟ اس حکم کے ذریعہ عیسائیوں کو اپنے پادریوں سے آزادی حاصل ہو رہی تھی، یہودیوں کو اپنے رہبانوں سے آزادی حاصل ہو رہی تھی اور مشرکین کو اپنے کاہنوں سے آزادی حاصل ہو رہی تھی مگر بجائے اس کے کہ وہ خوش ہوتے اُلٹا ناراض ہو گئے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کو کچلنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔نبوت کی ضرورت درحقیقت اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نبوت کی ضرورت بتائی ہے کہ جب تمہارے عقلی اور ذہنی قویٰ میں اس درجہ انحطاط رُونما ہو چکا ہے کہ تم یہ بھی سمجھ نہیں سکتے کہ تمہارا اپنا فائدہ کس بات میں ہے تو اگر ایسی گری ہوئی حالت میں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہاری اصلاح کے لئے کوئی نبی نہیں آئے گا تو کب آئے گا؟ نبی آنے کا وہی وقت ہوتا ہے جب قومی تنزّل اِس قدر بڑھ چکا ہوتا ہے۔کہ لوگوں کو برے بھلے کی بھی تمیز نہیں رہتی۔ظَھَرَ الْفَسَادُ فِی الْبِرِّ وَ الْبَحْرِ ( الروم:۴۲) کی کیفیت دنیا میں پورے طور پر رونما ہو جاتی ہے اور روحانی اور اخلاقی قوتیں بالکل مردہ ہو جاتی ہیں۔مگر باوجود اس قدر تنزل اور ادبار کے وہ سمجھتے یہ ہیں کہ ہمیں کسی مصلح کی ضرورت نہیں۔پس فرماتا ہے جب تمہاری حالت یہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اگر تمہارے فائدہ کی بھی کوئی بات کرتے ہیں تو تم اُن سے لڑنے لگ جاتے ہو۔تو یہ اِس بات کا ثبوت ہے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نبی کے آنے کی اشدضرورت ہے اگر اب بھی نبی نہ آتا تو تم لوگ بالکل تباہ ہو جاتے۔پس وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِيَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ کے ایک معنے یہ ہیں کہ اُنہیں سوائے اس کے کیا حکم دیا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے لئے دین کو خالص کر و۔یعنی اس سے پہلے یہ اقوام رہبان اور کہّان اور اَساقف کی غلامی کر رہی تھیں، امراء کی فرمانبرداری میں جانیں گنوا رہی تھیں۔اسلام نے آ کر انہیں نجات دی مگر بجائے شکر گزار ہونے کے اور دُور چلے گئے اور اپنے محسن سے لڑنا شروع کر دیا۔اب میں تفصیل کے ساتھ ان معنوں کے لحاظ سے جن کو اُوپر بیان کیا گیا ہے اِس آیت کا الگ الگ مفہوم بیان کرتا ہوں۔مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ کا مطلب مختلف معانی کے مطابق جو لُغت میں بتائے گئے ہیں یہ ہوا کہ اُنہیں صرف یہ