تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 549 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 549

بمعنے اعمالِ صحیحہ بھی۔پس قرآن کریم میں جہاں حنیف اور مسلم کے الفاظ اکٹھے استعمال ہوئے ہیں وہاں میرے نزدیک اس کے معنے یہ ہیں کہ عقیدہ میں بھی راسخ اور عمل میں بھی کامل۔گویا ساری صداقتوں کو ماننے والا اور پھر تمام نیک باتوںپر عمل کرنے والا۔تفسیر۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِيَعْبُدُوا اللّٰهَ۔اور اُن کو کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا سوائے اس کے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ۔دین کو اُسی کے لئے خالص کرتے ہوئے دین کے ایک معنے جیسا کہ اُوپر بتایا جا چکا ہے اطاعت کے ہوتے ہیں اور یہاں علاوہ دوسرے معنوں کے جن کی تفصیل آگے بیان کی جا ئے گی ایک یہ معنے بھی چسپاں ہوتے ہیں کہ وہ اپنی اطاعت کو اللہ تعالیٰ کے لئے ہی خالص کردیں یعنی اُن کے پیر، ان کے پنڈت، ان کے پادری، ان کے کاہن، ان کے راہب اور اُن کے بڑے بڑے عالم اُن سے اپنی غلامی کرا رہے تھے اور اس طرح دنیا میں انسانیت کی انتہائی تذلیل ہو رہی تھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آکر یہ نہیں کیا کہ انہیں اپنی غلامی کی طرف بلایا ہو یا کہا ہو کہ اپنے پنڈتوں اور پادریوں اور مولویوں کو چھوڑ کر تم میرے غلام بن جائو بلکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو صرف اتنا کہا کہ تم اِن غلامی کی زنجیروں کو کاٹ کر خالص اللہ تعالیٰ کے غلام بن جائو۔یہ کوئی ایسی بات نہیں تھی جس پر ان کو غصہ آتا یا اُن کی طبائع میں اشتعال پیدا ہو جاتا۔اُنہی کی بہبودی کے لئے محبت اور پیار کے ساتھ ان کے سامنے ایک بات پیش کی گئی تھی مگر بجائے اس کے کہ وہ اس پر غور کرتے اور اپنے اندر نیک تغیر پیدا کرتے انہیں غصہ آ گیا اور وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہر قسم کی تدابیر سے کام لینے لگ گئے۔دنیا میں جب کوئی شخص کسی کے فائدہ کی بات کہتا ہے تو دوسرا ممنون احسان ہوتا ہے کہ میں غلطی میں مبتلا تھا مگر فلاں نے مجھے آگاہ کر کے ہلاکت سے بچالیا۔مگر ان نادانوں کی یہ حالت ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب آکر کہا کہ آئو میں تمہیں اس غلامی سے نجات دُوں جس کا تم مدّتوں سے شکار ہوچکے ہو۔وہ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ جو تم نے بنائے ہوئے ہیں اُن سے تمہارے جسموں اور روحوں کو آزاد کرائوں تم اپنے پیروں کو سجدہ کرتے ہو، تم اُن کے پائوں کو ہاتھ لگاتے ہو، تم اُن کو اپنی حاجات کا پورا کرنے والا سمجھتے ہو اور اس طرح نہ صرف انسانیت کے شرف اور اُس کی عظمت کو بٹّہ لگاتے ہو۔بلکہ اس خدا کی بھی توہین کرتے ہو۔جو تمہارا خالق اور مالک ہے۔مجھے اللہ تعالیٰ نے اس لئے مبعوث فرمایا ہے کہ میں تمہیں اس غلامی سے نجات دوں اور تمہیں خالص اللہ تعالیٰ کا غلام بنا دوں تو بجائے اس کے کہ وہ اس نصیحت سے فائدہ اٹھاتے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ڈنڈے لے کر کھڑے ہو گئے کہ تم ہمارے دین کو خراب کرتے ہو۔