تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 548 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 548

ہوتا ہے یعنی ہر وہ شخص جو دینِ ابراہیم پر ہو محاورہ میں اُسے حنیف کہا جاتا ہے اور حماسی کا قول ہے کہ اَلْـحَنِیْفُ اَلْمَائِلُ عَنْ دِیْنٍ اِلیٰ دِیْنِ۔یعنی ایک دین سے دوسرے دین کی طرف جو شخص مائل ہو اُسے حنیف کہتے ہیں وَاَصْلُہٗ مِنَ الْـحَنَفِ فِی الرِّجْلِ اور اصل میں وہ کجی جو کسی بیماری یا چوٹ کے نتیجہ میں بعض دفعہ انسانی پائوں میں واقعہ ہو جاتی ہے اُس پر یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے مگر پھر اسی بناء پر جو شخص اپنے جدّی دین کو بدلنے کی طرف مائل ہو جائے اُسے بھی حنیف کہہ دیا جاتا ہے وَفِی الْکُلِّیَّاتِ فِیْ کُلِّ مَوْ ضِعٍ مِنَ الْقُرْاٰنِ الْـحَنِیْفُ مَعَ الْمُسْلِمِ فَھُوَ الْـحَآجُّ نَـحْوُ وَلٰکِنْ کَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا۔کلیاتِ ابو البقاء میں لکھا ہے کہ قرآن کریم میں جہاں بھی حنیف کا لفظ مسلم کے لفظ کے ساتھ استعمال کیا گیا ہے وہاں اس کے معنے حاجی کے ہوتے ہیں جیسے کَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا کے یہ معنے ہیں کہ کَانَ حَآجًّا مُّسْلِمًا وہ حج کرنے والا مسلم تھا۔وَ فِیْ کُلِّ مَوْ ضِعٍ ذُکِرَ وَحْدَہٗ فَھُوَا لْمُسْلِمُ نَـحْوُ حَنِیْفًا لِلہِ اور ہرموقع پر جہاں اکیلا یہ لفظ قرآن کریم میں استعمال ہوا ہے وہاں اس کے معنے مسلم کے ہوتے ہیں جیسا کہ فرماتا ہے حَنِیْفًا لِلہِ یعنی مُسْلِمًا لِلہِ پھر لکھا ہے وَالْـحَنِیْفُ اَیْضًا : اَلْمُسْتَقِیْمُ یعنی حنیف کے ایک معنے سیدھے راستہ پر چلنے والے کے بھی ہوتے ہیں (اقرب) حنیف کے معنے ابو البقاء کے نزدیک کلیات نے جو یہ معنے کئے ہیں کہ جہاں حنیف کالفظ مسلم کے ساتھ استعمال ہووہاں اس کے معنے حاجی کے ہوتے ہیں یہ محض زبردستی ہے۔جہاں تک میں نے آیات قرآنیہ پر غور کیا ہے میں سمجھتا ہوں کہ قرآنی محاورہ کے مطابق حنیف اُس شخص کو کہا جاتا ہے جو سارے نبیوں کو ماننے والا ہو اور شرک کا کسی رنگ میں بھی ارتکاب کرنے والا نہ ہو۔قرآن کریم کے الفاظ پر غور کرنے سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اِن دو معنوں میں یہ لفظ استعمال کیا گیا ہے یعنی اُس شخص کو بھی حنیف کہا گیا ہے جو سب انبیاء پر ایمان رکھتا ہو اور اس شخص کو بھی حنیف کہا گیا ہے جو شرک سے کامل طورپر مجتنب ہو۔گویا حُنَفَآءَ وہ ہیں جو سارے نبیوں کو ماننے والے اور کسی سچائی کا انکار کرنے والے نہ ہوں اور مشرک نہ ہوں ان میں سے ایک معنے مثبت کے لحاظ سے ہیں اور ایک معنے منفی کے لحاظ سے۔سارے نبیوں کو ماننا مثبت پہلو ہے اور خدا تعالیٰ کی ذات اور اُس کے صفات میں کسی کو شریک نہ ٹھہرانا یہ منفی پہلو ہے غرض میرے نزدیک قران کریم میں جہاں کَانَ حَنِیْفًا مُسْلِمًا کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں وہاں حنیف کالفظ حاجی کے معنوں میں نہیں بلکہ تمام انبیاء پر ایمان رکھنے والے کے معنوں میں استعمال ہوا ہے اور مسلم کا لفظ اعمالِ صحیحہ کو بجا لانے والے کے معنوں میں استعمال کیا گیا ہے درحقیقت قرآن کریم پر اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اُس میں اسلام کالفظ دو معنوں کے لحاظ سے استعمال ہوا ہے اسلام بمعنے ایمان ظاہر بھی اور اسلام