تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 547
معنے ہیں کہ حَکَمَ عَلَیْہِ اُس پر حکم چلایا اور دَانَ فُلَانٌ کے معنے اَذَلَّہٗ کے بھی ہوتے ہیں یعنی اس کو اپنے ماتحت کر لیا چنانچہ حدیث میں آتا ہے اَلْکَیِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَہٗ وَ عَـمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ۔ہوشیار وہ ہے جس نے اپنے نفس کو تابع کرلیا اور موت کے بعد کے زمانہ کے لئے عمل کیا (اقرب) ان معنوں کے بعد اب میں یہ بتاتا ہوں کہ دِیْنٌ جو مصدر ہے اس کے اُوپر کے مصدری معنوں کے علاوہ اور کیا معنے ہیں لُغت میں دِیْنٌ کے کئی معنے لکھے ہیں جو نیچے درج کئے جاتے ہیں (۱) اَلْـجَزَاءُ وَالْمُکَفَأَۃُ۔بدلہ (۲) الطَّاعَۃُ۔اطاعت اور فرمانبرداری (۳) اَلْـحِسَابُ۔محاسبہ کرنا (۴) اَلْقُھْرْ وَالْغَلَبَۃُ وَ الْاِسْتِعْلَاءُ۔یہ تینوں الفاظ عربی زبان میں غلبہ کا مفہوم ادا کرنے کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں اور ان تینوں میں بہت تھوڑا تھوڑا فرق ہے۔(۵) اَلسُّلْطَانُ وَ الْمُلْکُ وَ الْـحُکْمُ۔بادشاہت اور حکومت۔( ۶) اَ لسِّیْرَۃُ۔طبیعت ( ۷) اَلتَّدْبِیْرُ۔تدبیر کرنا۔(۸) اِسْـمٌ لِـجَمِیْعِ مَا یُعْبَدُ بِہِ اللہُ۔دین نام ہے ان تمام طریقوں کا جن کے ذریعہ خدا تعالیٰ کی عبادت کی جاتی ہے۔مثلاً مسلمانوںمیںنمازپڑھنا یا حج بیت اللہ کے لئے جانا اللہ تعالیٰ کی عبادت سمجھا جاتا ہے یہ طریق عبادت عربی زبان کے لحاظ سے دین کہلائے گا اسی طرح ہندوئوں کے طریق عبادت کی جو بھی شکل ہو وہ دین کہلائے گی عیسائیوں کے طریق عبادت کی جو بھی شکل ہو وہ دین کہلائے گی یہودیوں اور زرتشتیوں وغیرہ کے طریق عبادت کی جو بھی شکل ہو وہ دین کہلائے گی۔گویا عبادت ِالٰہی خواہ کسی طریق سے کی جائے اُس کا نام دین ہوتا ہے۔(۹) اَلْمِلَّۃُ۔طریقہ (۱۰)اَلْوَرَعُ۔بزرگانہ اعمال جن سے روحانیت کو ترقی حاصل ہوتی ہے۔(۱۱) اَلْـحَالُ۔حال (۱۲)اَلْقَضَاءُ۔فیصلہ(۱۳)اَلْعَادَۃُ۔عادت (۱۴)اَلشّاْنُ۔اس کے معنے بھی حالت کے ہی ہوتے ہیں مگر اچھی حالت کے(اقرب)۔قرآن کریم میں بھی شَاْن کا لفظ استعمال ہوا ہے۔جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کُلَّ یَوْمٍ هُوَ فِیْ شَاْنٍ (الرَّحْمٰن:۳۰) کہ ہر روز اللہ تعالیٰ ایک نئی شان میں ہوتا ہے۔حُنَفَآءَ حُنَفَآءَ :حَنِیْفٌ کی جمع ہے جو حَنَفَ سے صفت مشبہ ہے اور حَنَفَ الشَّيْءُ حَنْفًا کے معنے ہوتے ہیں مَالَ کوئی چیز اپنی جگہ سے جُھک گئی اور حَنِیْفٌ کے معنے ہیں اَلصَّحِیْحُ الْمَیْلِ اِلَی الْاِسْلَامِ، الثَّابِتُ عَلَیْہِ۔خدا تعالیٰ کی اطاعت اورفرمانبرادری کی طرف سچا ذوق اور اُس پر ثابت قدمی گویا اس کے صرف اتنے معنے نہیں کہ انسان کے اندر نیکی کی طرف میلان پایا جائے بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ اُسے نیکی پر ثبات حاصل ہو اور اُس کے اندر استقلال کامادہ پایا جاتا ہو۔محاورہ میں کُلُّ مَنْ کَانَ عَلٰی دِیْنِ اِبْرَاھِیْمَ کے معنوں میں حنیف کا لفظ استعمال