تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 531
نہیں کہیں گے۔اسی طرح کسی چیز کو نجاست لگ جائے تو اس کو صاف کرنے کے لیے طَھِّرْ کہیں گے طَیِّب نہیں۔بہرحال طاہر تب کہیں گے جب نجاست ظاہری سے کسی چیز کو بچایا جائے۔خواہ یہ نجاست جسمانی ہو یا روحانی۔مثلاً ایک طاہرالقلب انسان ہو یعنی وساوس شیطانی سے پاک ہو تو اسے بھی ہم طاہر کہہ دیں گے اور اگر کوئی شخص نہا دھو کر نکلا ہو تو اُسے بھی طاہر کہا جائے گا۔نظافت بھی خارجی نجاست سے پاکیزگی کا نام ہے جیسے میل وغیرہ سے یا حسن و خوبصورتی کا مالک ہونے پر یہ لفظ دلالت کرتا ہے۔کہتے ہیں نَظُفَ الشَّیْءُ میل کچیل سے پاک تھی یا خوبصورت تھی لیکن کبھی یہ لفظ باطنی نجاست سے پاک ہونے کے لیے بھی بول لیا جاتا ہے۔کہتے ہیں فُلَانٌ نَظِیْفُ الْاَخْلَاقِ یعنی فلاں شخص مہذب ہے مگر یہ لفظ اخلاق کے لیے بولا جائے گا یا میل کچیل کے لیے۔مزیدار یا لطیف کے لئے نہیں بولا جائے گا اور صفائی کے لیے زیادہ تر ظاہر قسم کی صفائی کے لیے بولا جائے گا نہ کہ باطنی صفائی پر۔اسی طرح اخلاق کے لیے تو بولا جائے گا روحانی صفائی کے لیے نہیں اس وجہ سے اس کے معنے طاہر سے مختلف ہیں کہ وہ رُوحانی پاکیزگی اور نفسیاتی پاکیزگی پر زیادہ دلالت کرتا ہے۔اس لفظ کو طیّب سے اس امر میں مشارقت ہے کہ حسن و بہا کے لیے بھی نظافت کا لفظ آتا ہے۔یہ لفظ قرآن کریم میں استعمال نہیں ہوا مگر احادیث میں اصل معنوں میں بھی استعمال ہوا ہے اور استعارۃً بھی استعمال ہوا ہے جیسے حدیث میں آتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نَظِّفُوْااَفْوَاھَکُمْ (کنز العمال الفصل الثالث فی آداب التلاوۃ حدیث نـمبـر ۲۸۰۴) اپنے مُونہوں کو پاک کیا کرو۔اس جگہ پاک کرنے کے معنے یہ ہیں کہ جھوٹ فریب اور دغا وغیرہ سے اپنے آپ کو بچائو اور کہیں کوئی ایسی بات اپنی زبان سے نہ نکالو جو اللہ تعالیٰ کے احکام کے خلاف ہو۔یہاں نظافت کا لفظ استعارۃً استعمال ہوا ہے نہ کہ اصل ظاہری معنوں میں۔نِقَاءٌ کا لفظ بھی قرآن کریم میں استعمال نہیں ہوا حدیث میں ہوا ہے۔اس کے اصل معنے مغز نکالنے کے ہوتے ہیں(اقرب) اور ان معنوں کے رُو سے استعارۃً صفائی کے معنوں میں بھی استعمال ہونے لگ گیا ہے جیسے چھلکے کو دُور کرکے مغز نکالتے ہیں یا ہڈی کو توڑ کر گودہ نکالتے ہیں۔انہیں معنوں سے استدلال کر کے محاورہ میں نظیف حسین اور خالص کے معنے دینے لگ گیا ہے۔زَکٰوۃٌ کے اصل معنے اندرونی نجاست کے دُور کرنے کے ہوتے ہیں لیکن کبھی ظاہری صفائی کے معنوں میں بھی استعارۃً استعمال ہو جاتا ہے۔قرآن کریم میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔صَفَاءٌ کے معنے ملاوٹ سے نجات پانے کے ہوتے ہیں یا منتخب ہونے کے ہوتے ہیں استعارۃً ظاہری صفائی