تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 524 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 524

وَالْمُشْرِكِيْنَ مُنْفَكِّيْنَ حَتّٰى تَاْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ اہل کتاب اور مشرک کبھی اپنے کفر کو چھوڑ ہی نہیں سکتے تھے جب تک اُن کے پاس بیّنہ یعنی اللہ تعالیٰ کا رسول نہ آجاتا۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا بیّنہ کے آنے سے اہل کتاب اور مشرکین نے کفر چھوڑ دیا؟ یا قرآن کریم کے آنے کی وجہ سے اہل کتاب اور مشرک بچ گئے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اِس فقرہ کی بناوٹ اِس قسم کی نہیں جس سے یہ ظاہر ہو کہ سب کے سب اہل کتاب یا سب کے سب مشرک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئیں گے بلکہ اس کامطلب یہ ہے کہ اہل کتاب اور مشرکوں میں سے کوئی ایک شخص بھی مسلمان نہیں ہو سکتا تھا جب تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث نہ ہوتے۔پس اِس آیت کے یہ معنے نہیںہیں کہ اہل کتاب اور مشرک اُس وقت تک سو ۱۰۰ فی صدی مسلمان نہیں ہو سکتے تھے جب تک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہ آتے بلکہ معنے یہ ہیں کہ اہل کتاب ا ور مشرکوںمیں سے ایک فی صدی بھی صداقت پر قائم نہیںہو سکتے تھے جب تک ان کے پاس بیّنہ یعنی اللہ تعالیٰ کا رسول نہ آجاتا۔پس یہ کہنا کہ یہودی اب تک موجود ہیں یا عیسائی اب تک موجود ہیںیا مشرک اب تک موجود ہیں اور وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لائے ویسا ہی اعتراض ہے جیسے مولوی ثناء اللہ صاحب کہہ دیا کرتے ہیں کہ مرزا صاحب کے آنے کا فائدہ کیا ہوا جبکہ عیسائی بھی موجود ہیں، یہودی بھی موجود ہیں، ہندو بھی موجود ہیں، سکھ بھی موجود ہیں اور غیر احمدی بھی موجود ہیں، حالانکہ نبی آنے کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ سب لوگ اس پر ایمان لے آتے ہیں اور کوئی ایک شخص بھی ایسا باقی نہیں رہتا جو کفرو شرک میں مبتلا رہے۔نبی کے آنے کی غرض نبی آنے کے صرف اتنے معنے ہوتے ہیں کہ وہ الٰہی قرب کا ایک راستہ کھول دیتا ہے اور بنی نوع انسان کے لئے شیطان سے بچنے اور اللہ تعالیٰ کی محبت اور اُس کی رضا حاصل کرنے کے مواقع پیدا ہوجاتے ہیں اس کے بعد خواہ ایک شخص نبی پر ایمان لائے یا دس آدمی ایمان لانے والوںمیںشامل ہوں۔یہ نہیںکہا جا سکتا کہ جب ہزاروں یا لاکھوں آدمی ابھی کفر و شرک میں مبتلا ہیں تو نبی کے آنے کا فائدہ کیا ہوا۔نبی کے آنے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے قرب کا دروازہ بنی نوع انسان کے لئے کھول دیتا ہے اگر وہ دروازہ نہ کھولے تو کوئی ایک شخص بھی مسلمان نہیں ہو سکتا۔کوئی ایک شخص بھی اللہ تعالیٰ کا مقرب اور اُس کا پیارا نہیں بن سکتا۔پس یہ کہنا کہ باوجود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبعوث ہونے کے کفر کیوںموجود ہے حقیقت سے عدم واقفیت کی وجہ سے ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمتوں اور سنتوں کو نہ جاننے سے پیدا ہوا ہے اور درحقیقت یہ اعتراض ہر نبی پر ہی کیاگیا ہے اور جب تک دنیا میں مصلح آتے رہیں گے ہوتا رہے گا کیونکہ ایک مصلح ربّانی بھی دنیا میں نہیں آیا جسے سب دنیا نے قبول کر لیا